اسرائیلی صدر کی قیادت میں مسجد ابراہیمی پر دھاوا

219
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ الخلیل کی تاریخی عبادت گاہ مسجد ابراہیمی پر دھاوے کے دوران تقریب میں شمع روشن کررہے ہیں‘ دوسری تصویر میں صہیونی فوج فلسطینی مزاحمت کاروں کو گرفتار کررہی ہے‘ تیسری تصویر مسجد ابراہیمی کے مینار پر اسرائیلی پرچم نصب کرنے کی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے غرب اردن کے تاریخی شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی پر صہیونی فوج کی سیکورٹی کے حصار میں دھاوا بول دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق انتہاپسند یہود کے دھاوے کی قیادت خود اسرائیلی صدر نے کی۔ انہوں نے تاریخی شہر الخلیل میں یہود کے تہوار حنوکا کی تقریبات میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے شمع بھی روشن کی۔ صہیونی فوج کے دھاوے کے دوران سیکورٹی کی بھاری نفری کے باعث علاقہ فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا۔ یہود آباکاروں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد ابراہیمی کے مینار پر اسرائیلی پرچم بھی نصب کردیا۔الخلیل کے پرانے شہر میں واقع ابراہیمی مسجد کے احاطے میں اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی ، تاکہ اسرائیلی صدر کو مسجد ابراہیمی پر دھاوے کے وقت سیکورٹی فراہم کی جا سکے۔ یہو دی آبادکاری کے مخالف نوجوانوں کی انجمن نے بتایا کہ مسجد ابراہیمی پر ہلہ بولنے کی کارروائی میں سیکڑوں یہودی آبادکار بھی شریک تھے۔ انہوں نے پرانے شہر میں ریلی نکالی ، جس میں شامل شرپسندوں نے علاقے کے فلسطینی باسیوں کی املاک پر پتھراؤ کیااور نسل پرستانہ جملے کسے۔ فلسطینیوں نے اس شرانگیزی پر سخت احتجاج کیا اور مختلف مقامات پر فوج اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی صدر ہرزوگ کی قیادت میں یہ حملہ نہ صرف یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان ہے ، بلکہ نہتے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر ایک اور کاری ضرب ہے ۔ مسجد ابراہیمی پر چڑھائی اسرائیلی صدر کی جانب سے یہودی آبادکاروں کے منصوبوں کی اجازت دینے کی ایک کڑی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل منگل کے روز فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پر دھاوا بولا اور مقدس مقام کی بے حرمتی کے ساتھ وہاں پرموجود فلسطینیوں پر فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ کی تھی۔ ہلال احمر فلسطین کے ڈائریکٹر احمد جبریل نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور اشک آور گیس کی شیلنگ سے 3فلسطینی زخمی ہوئے تھے۔ انہیں سینے اور پیٹ میں زخم آئے جس کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے آنسوگیس کی شیلنگ سے 33 فلسطینی دم گھنٹے سے بھی متاثر ہوئے۔