کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ،سندھ بار کونسل کے سیکرٹری جاں بحق،وزیراعلیٰ کا نوٹس

103

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں سیکرٹری سندھ بار کونسل ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں جاں بحق ہو گئے‘ بدھ کو گلستان جوہر بلاک 13 میں چپیل پلازہ اور عائشہ مسجد کے قریب موٹر سائیکل سوار ٹارگٹ کلرز نے عرفان مہر کی گاڑی پر فائرنگ کی‘ سیکرٹری سندھ بار کونسل اپنی بیٹی کو اسکول چھوڑ کر گھر جا رہے تھے‘ مقتول کو نہایت قریب سے 5 گولیاں ماری گئیں‘ گاڑی میں موجود عرفان مہر کا بھتیجا محفوظ رہا۔ واقعے کی سی سی ٹی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلمٹ اور جیکٹ پہنے ہوئے ٹارگٹ کلر نے گاڑی پر پورے اطمینان سے فائرنگ کی، جس سے لگتا ہے کہ وہ ماہر نشانہ باز تھے۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی جس نے پہلے مقتول کو دارالصحت اسپتال منتقل کیا جہاں سے موت کی تصدیق ہونے کے بعد لاش کو پوسٹمارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق عرفان علی مہر کے جسم پر 5 گولیاں لگیں، 2 گولیاں سینے پر، 2 چہرے پر اور ایک بازو میں لگی۔ پولیس کو جائے وقوع سے30 بور پستول کے 3 خول ملے ہیں۔سندھ ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری کے قتل کیس کی ابتدائی تفتیش میں بتایا گیا کہ بظاہرعرفان مہرکو ٹارگٹ کیا گیا اور فائرنگ کرنے والے ملزمان انتہائی ماہر نشانہ بازتھے، پولیس نے کار میں موجود عینی شاہد بچے کا بیان قلم بند کرلیا‘ بچے کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کا چہرہ ٹھیک سے نہیں دیکھ سکا۔ ایس پی گلشن عبدالخالق پیرزادہ نے بتایا کہ ٹارگٹ کلر نے سیدھے ہاتھ سے کار پر فائرنگ کی‘ علاقے میں لگے مزید سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کرلی گئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ملزمان نے مقتول کی گاڑی کا تعاقب کیا جب کہ فوٹیج کی مدد سے ملزمان کے فرار کا راستہ بھی معلوم ہوگیا ہے جب کہ جیو فینسنگ کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے‘ مزید تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور جنرل سیکرٹری کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے مطالبہ کیا ہے کہ عرفان علی مہرکے قاتلوں کوگرفتار کرکے سزادی جائے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن نے آج عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ واقعے کے بعد نعیم قریشی سمیت وکلا کی بڑی تعداد اسپتال پہنچ گئی۔ نعیم قریشی کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ عرفان34 ہزار وکیلوں کے سیکرٹری تھے‘ ہم اس واقعے کے خلاف جمعرات کو ہڑتال کی کال دی ہے۔ سیکریڑی عامر وڑائچ نے کہا ہے کہ وکلا آج عدالتوں میں پیش نہ ہوں۔ سندھ ہائی کورٹ بار کی جانب سے بھی عرفان مہرکے قتل کی مذمت کی گئی۔ صدر ہائی کورٹ بار صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ عرفان مہر کا قتل لاقانونیت کی انتہا ہے۔امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی نے سیکرٹری سندھ بارکونسل عارف مہرکے قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلستان جوہر میں دیدہ دلیری کے ساتھ ایک وکیل رہنما کا بے دردی کے ساتھ قتل امن و امان کی خراب صورتحال کی نشاندہی اور صوبائی حکمرانوں کی نااہلی کا ثبوت ہے‘ واقعے کی تحقیقات اور قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں مکمل ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت، درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے وکیل عرفان مہر کی ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ مجھے وکیل عرفان مہر کے قاتل بہر صورت چاہئیں‘ مجھے کراچی بہر صورت پرامن چاہیے‘ میں چاہتا ہوں شہری بلاخوف شہر میں گھومیں پھریں۔ وزیراعلی سندھ کی صدارت میںاہم اجلاس ہوا۔ مرادعلی شاہ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ہدایت کی کہ اسٹریٹ کرائم کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور مین پوری، گٹکا، ماوا و دیگر منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن کریں۔