مہنگائی… سال کی بلند ترین سطح پر

273

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا ہے کہ گھی اور چائے کی پتی کے سواپاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کو اجلاس میں مہنگائی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے جس کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے، پنجاب میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کے بعد یوریا کھاد کی قیمت میں 400 روپے فی بوری کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سال ریکارڈ چاول پیدا کیا ہے۔ اب قیمتوں میں مسلسل کمی آئی ہے، ایک ماہ کے اندر چینی 60 روپے سستی ہوئی جب کہ ٹماٹر، پیاز، مرغی کا گوشت، چاول اور ایل پی جی بھی سستی ہوئی۔ کراچی اور حیدر آباد میں بدقسمتی سے تیس سال حکومت کرنے والوں سے قیمتیں کنٹرول نہیں ہوسکیں۔ چینی کی قیمت میں اضافہ بنیادی طور پر سندھ حکومت کی جانب سے کرشنگ سیزن تاخیر سے شروع کرنے کی وجہ سے ہوا۔ 40 فی صد پرائس انڈیکس کراچی کے ساتھ منسلک ہے، کراچی میں قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں تو یہ انڈیکس اوپر چلا جاتا ہے۔ راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، سرگودھا اور ملتان میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1000 روپے کا ہے، کراچی میں آٹے کا تھیلا 1404 روپے اور حیدر آباد میں 1443 روپے کا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا میں قیمتوں کا موازنہ کریں تو ماسوائے چائے کے دیگر تمام چیزیں اس خطے میں سب سے سستی ہیں۔ چائے کی پتی پاکستان میں 1309 روپے فی کلو ہے، بنگلادیش میں 897 روپے، انڈیا میں 1203 اور سری لنکا میں 1170 روپے فی کلو ہے۔ گندم، دالیں، چینی کوکنگ آئل، آلو، پیاز، چکن، انڈے اس ریجن میں سب سے زیادہ سستے پاکستان میں ہیں۔ عالمی مہنگائی کے باوجود جو اقدامات ہم سے ممکن ہیں وہ کررہے ہیں۔ وفاقی کابینہ کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے بارے میں جن تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے، اس کا حکومت ہی کے ایک محکمے یعنی محکمہ شماریات کی تیار کردہ رپورٹ سے موازنہ کیا جائے تو بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ محکمہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی روپے کی انتہائی گرتی ہوئی قدر کے باعث بجلی، پٹرول اور اشیائے خوراک سمیت تقریباً ہر شے عام آدمی کی پہنچ سے بالا ہوتی جارہی ہے۔ محکمہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس نومبر 2020ء میں مہنگائی کی شرح 8.3 فی صد تھی جو بڑھ کر 12 فی صد ہوگئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق چند اشیا کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے لیکن ان میں وہ سبزیاں اور دالیں جیسی اشیا شامل ہیں جن میں طلب و رسد اور پیداوار کے فرق سے قیمتوں میں ردوبدل ہوتا رہتا ہے۔ اعداد و شمار سے قطع نظر وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اب یہ اعداد و شمار کے موازنے کا مسئلہ نہیں رہا ہے۔ حکومت کے ارکان اور ان کے حامی بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کا سب سے بڑا چیلنج معاشی ہے اور قیمتوں میں اضافے نے عام، غریب اور متوسط طبقے سے لے کر آسودہ حال طبقات کو بھی پریشان کردیا ہے۔ مہنگائی ہر فرد کا تجربہ ہے، جو معاشی نظام ملک کے اوپر مسلط ہے اس کی وجہ سے ایک طبقے کے پاس دولت کی فراوانی ہے، اس طبقے کی وجہ سے اشیائے تعیش کی فروخت میں اضافے کو مثبت زاویے سے نہیں دیکھا جاتا جیسا کہ وفاقی وزارت خزانہ کے ترجمان سمیت کئی افراد گاڑیوں سمیت مختلف اشیا کی فروخت میں اضافے کی مثال دیتے ہیں۔ اس وقت قوم اشیا کی قیمتوں میں کمی کی امید سے زیادہ حالات کے مزید خراب ہونے سے خوف زدہ ہے۔ عام آدمی اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کو نہیں سمجھتا نہ معاشی اصطلاحوں سے واقف ہے، وہ زندگی میں افلاس اور خوشحالی کا تجربہ کرتا ہے، اس بات سے ہر شخص واقف ہے کہ آئی ایم ایف کی نئی اور سخت شرائط کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ جیسا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہوئی ہے، جس کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں کیا گیا ہے اور آئی ایم ایف شرائط کی پابندی کرتے ہوئے پٹرولیم پر عائد ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے حکم پر تقریباً گزشتہ 30 برسوں سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا جاتا رہا ہے جو اب بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے۔ حکومتی یقین دہانیوںکے باوجود مارکیٹ میں یہ خوف موجود ہے کہ ڈالر 200 روپے تک پہنچ جائے گا۔ اسی طرح گھٹتے، بڑھتے پٹرول کی قیمت بھی 200 روپے فی لٹر تک پہنچ جائے گی جس کا اثر ہر شے کی پیداواری لاگت پر پڑتا ہے۔ حکومت کے پاس نہ کوئی طویل المیعاد منصوبہ ہے نہ فوری اقدامات ایسے ہیں کہ جن کے ذریعے معیشت مستحکم ہو اور عام آدمی کو سہولت فراہم کی جاسکے۔ کوئی بھی حکومتی ماہر معیشت اس بات کا علاج بتانے میں کامیاب نہیں ہوگا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کیسے توازن پیدا کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان یہ بتا چکے ہیں محصولات کی سب سے بڑی رقم قرض اور اس کے سود کو ادا کرنے میں صرف ہورہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ہنگامی اقدامات کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر میں توازن پیدا کریں گے، لیکن تین برس میں وہ اس میں بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔ اب بھی وہی ابتدائی صورت ہے کہ وزیر اطلاعات نے خبر دی ہے کہ سعودی عرب سے ملنے والے تین ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں جمع ہونے کے انتظامات کرلیے گئے ہیں۔ یہ تجربہ تو پہلے بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کو ’’ناں‘‘ کہنے والا کوئی نہیں ہے۔ پاکستان کو درپیش مصائب قرآن کے حکم کی صداقت بیان کررہے ہیں جس کے مطابق سود اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے، اور یہ ظلم کا سب سے بڑا سبب ہے۔ پاکستان کی معاشی تباہی، غربت اور امارت میں فاصلہ، مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان کا سبب عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی ہے۔ جب تک سودی معیشت سے آزادی حاصل نہیں کی جائے گی اس وقت تک مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات حاصل نہیں ہوسکتی۔