حافظ نعیم الرحمن سیاست نہیں خدمت کررہے ہیں

235

جب سے حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی کراچی کے امیر بنے ہیں وہ کراچی جماعت کو ایک عوامی جماعت بنانے کی انتھک جدوجہد کررہے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے رات دن ایک کیا ہوا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے پہلے جماعت عوامی جماعت نہیںتھی 1970 کے الیکشن میں جماعت نے 7قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے تین پر کامیابی حاصل کی تھی اس وقت کراچی کے شہریوں کا 40فی صد اعتماد حاصل کیا تھا۔ 1979 اور پھر 1983 کے بلدیاتی انتخابات میں مسلسل فتح حاصل کی، دونوں دفعہ عبدالستار افغانی میئر منتخب ہوئے، 1985 کے عام انتخابات میں قومی اور صوبائی کی ملا کر 7نشستیں حاصل کیں 2002 کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل نے قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی جن میں سے چار پر جماعت اسلامی کے امیدواران کامیاب ہوئے اسی طرح صوبائی اسمبلی کے متحدہ مجلس عمل کے لوگ بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے اس سے قبل نعمت اللہ خان کراچی کے ناظم سٹی بن چکے تھے، 1988 سے 1999 تک کی جمہوری حکومتوں میں بھی جتنے انتخابات ہوئے ان میں بھی جماعت فتح حاصل کرتی رہی مظفر احمد ہاشمی مرحوم اور عثمان رمز مرحوم ان ہی ادوار میں قومی اسمبلی کے رکن رہے۔
اوپر تفصیل دینے کا مطلب یہ ہے کہ جماعت ویسے تو ہر دور میں پارلیمانی سیاست میں متحرک رہی ہے اور اس کا عوام سے رابطہ ہمیشہ سے مضبوط رہا ہے لیکن یہ رابطہ جماعت کے کونسلرز، ارکان قومی صوبائی اسمبلی، سینیٹرز، سٹی و ٹائون ناظمین سے اپنے مسائل کے حوالے سے ہوتا تھا۔ حافظ نعیم الرحمن نے یہ کام کیا ہے کہ جس طرح وہ خود ایک طرح سے مرجع خلائق ہیں اسی طرح سے انہوں نے جماعت اسلامی کو مرجع خلائق بنانے کی جدو جہدشروع کر رکھی ہے اور اس کے لیے مسلسل یہ اور ان کی ٹیم محنت کررہی ہے۔ کراچی میں عوام کے کسی ادارے میں ان کے مسائل حل نہیں ہو پارہے ہوتے تو وہ سب جگہ سے مایوس ہو کر حافظ نعیم کے پاس آتے ہیں۔ پچھلے دنوں بحریہ ٹائون کراچی کے متاثرین نے ادارہ نور حق میں اپنے مسائل کے حوالے سے حافظ نعیم سے رابطہ کیا، بحریہ ٹائون کے ملک ریاض خود اپنی ٹیم کے ساتھ ادارے میں آئے اور متاثرین کے مسائل حل کیے جس میں جماعت اسلامی کراچی نے اہم رول ادا کیا۔ کراچی کے شہریوں نے جب یہ دیکھا کہ حافظ نعیم بڑے اخلاص کے ساتھ کراچی کے شہریوں کے مسائل حل کرنے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں تو اب کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کوئی نہ کوئی وفد ادارہ نور حق میں آیا ہوا نہ ہو۔
حافظ نعیم نے مرکز کراچی کی سطح پر جو پبلک ایڈ کمیٹی بنائی ہوئی ہے اس میں مختلف شعبہ جات ہیں شناختی کارڈ کا شعبہ الگ ہے بجلی گیس کے مسائل کے لیے الگ کائونٹر ہیں زمینوں کے مسائل بلدیاتی مسائل اور واٹر بورڈ کے مسائل کے بھی الگ الگ ذمے داران ہیں پھر اسی طرح کی پبلک ایڈکمیٹیاں اضلاع اور علاقوں کی سطح پر بھی قائم کی گئی ہیں جو اپنے اپنے دائروں فعال ہیں اور متعلقہ اضلاع اور علاقوں کے عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے ان سے رابطہ رکھتے ہیں۔
حافظ نعیم کے بارے میں یہ کہنا کہ آپ سیاست نہ کریں اور پھر توہین عدالت کی بات بھی کی گئی حافظ نعیم الرحمن تو کراچی کے عوام کی خدمت کررہے ہیں ہمارے پیارے نبی اکرمؐ کی ایک حدیث ہے کہ ’’افضل الاشغال خدمت الناس‘‘ یعنی بہترین کام، بہترین شغل، بہترین جدوجہد، بہترین دوڑ بھاگ اور یا یوں کہہ لیجیے کے بہترین سیاست وہ ہے جو عوام کی خدمت کے لیے کی جائے اور بزرگان دین کہتے ہیں کہ اللہ کی رضا کا راستہ اس کے بندوں کی خدمت سے ہو کر گزرتا ہے ایک اور حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ جو میرا بندہ میرے کسی دوسرے بندے کی مشکل کو اور اس کے مسئلے کو حل کرنے میں لگا رہتا ہے میں اس کے مسئلے کو حل کرنے میں لگا رہتا ہوں یہ ایک خالص دینی کام ہے جس کو سیاست کہنا مناسب نہیں ہے ایک سینئر وکیل علی احمد کرد نے کہا ہے کہ ہماری عدلیہ کا کارکردگی کے اعتبار سے دنیا کے 130ممالک میں 126واں نمبر ہے پھر انہوں نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہماری عدالتیں طاقتوروں کے اشاروں پر فیصلے دیتی ہیں ان پر توہین عدالت لگانے کے بجائے ہمارے معزز چیف جسٹس صاحب نے ان کی باتوں کا بھر پور جواب دیا ان سے کسی نے نہیں کہا کہ آپ سیاسی باتیں کیوں کررہے ہیں نسلہ ٹاور کے متاثرین کے معاوضے کی بات کرنا کدھر سے سیاست ہو گئی یہ تو عوام کی خدمت ہے۔ آج کل ایک سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ایک آڈیو کا سلسلہ میڈیا میں بڑے زور شور سے چل رہا ہے، اس سے قبل رانا شمیم کے بیان حلفی پر تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سو موٹو ایکشن لے لیا ہے۔ جب ثاقب نثار چیف جسٹس تھے اور وہ ہر مسئلے پر سوموٹو لے رہے تھے اس وقت کسی مسئلے پر ایک دینی جماعت کے سربراہ نے شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں غلیظ گالیوں سے نوازا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ تمہارے باپ دادا انگریزوں کے کتے نہلاتے تھے میں نے یہ بات کسی سے سنی نہیں اور نہ ہی سینہ گزٹ کے طور پر علم میں آئی ہے یہ گالیاں میں نے خود سوشل میڈیا پر سنی ہیں وہ سربراہ اب دنیا میں تو نہیں رہے لیکن عدالت عظمیٰ کے حاضر سروس چیف جسٹس کے خلاف اتنی غیر معیاری زبان استعمال کرنے پر میں نے تو نہیں سنا کہ انہیں توہین عدالت کا کوئی نوٹس دیا گیا ہو۔ 2014 میں آرمی پبلک اسکول کا جو سانحہ ہوا تھا اس کے بہت مجرمین کو سزائیں بھی ہو گئیں ہیں لیکن شہداء کے والدین اس پر مطمئن نہیں تھے انہوں نے اس وقت کے حساس عہدوں پر فائز کچھ ذمے داران کے نام کے ساتھ عدالت عظمیٰ سے رابطہ کیا کہ یہ لوگ بھی اس سانحے کے ذمے دار ہیں جو اس وقت اہم مناصب پر براجمان تھے ان کے خلاف کیوں کاررورائی نہیں کی گئی چیف جسٹس نے جب وزیر اعظم کو اس حوالے سے عدالت میں طلب کیا اور ان سے یہ سوال کیا ان ذمے داران کے خلاف آپ نے کیا کارروائی کی تو وزیر اعظم نے جواب دیا کہ کوئی مقدس گائے نہیں ہے آپ حکم دیں تو ہم ان کے خلاف آج ہی ایف آئی آر کاٹ دیتے ہیں اس وقت ہماری عدالت عظمیٰ نے ان طاقتور لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کا واضح حکم نہیں دیا بلکہ یہ وزیر اعظم پر چھوڑ دیا کہ آپ شہداء کے والدین کو مطمئن کریں۔ ہماری عدالتی تاریخ بھی تنازعات اور تضادات سے بھری پڑی ہے اس کی ابتداء جسٹس منیر کے نظریہ ٔ ضرورت سے ہوئی اور آج سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو تک پہنچی ہے اس پر جو لوگ بالخصوص ن لیگ والے میڈیا پر جو باتیں کررہے ہیں ان کے خلاف کوئی توہین عدالت کی بات نہیں کرتا ہوا نظر آتا۔