الخدمت فاونڈیشن کمپلیکس

370

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہم اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ دائرہ علم و ادب کی دوسری سالانہ اہل قلم کانفرنس میں شرکت کے لیے پھالیہ جانے کے لیے شاہ حسین ایکسپریس سے لاہور پہنچے اور ایک رات الخدمت فاونڈیشن کے گیسٹ روم میں قیام کیا۔ جب کہ واپسی پر بھی ایسا ہی ہوا۔ ان دو راتوں کے قیام میں ہم نے محسوس کیا کہ الخدمت کے گیسٹ رومز کسی 5 اسٹار ہوٹل سے کسی بھی صورت کم نہیں ہیں۔ کمرے میں آرام وآسائش کی ہر سہولت میسر تھی۔ ائرکنڈیشن۔ فین۔ ٹیلی ویژن۔ باتھ رومز وغیرہ کی اعلیٰ درجے کی تمام سہولتیں میسر تھیں۔ صفائی ستھرائی کا بھی نہایت اعلیٰ انتظام تھا۔ متعلقہ عملہ بھی نہایت خوش اخلاق اور خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار تھا۔ ایک بہترین کینٹین میں کھانا بھی بہت ہی اعلیٰ معیار کا میسر تھا۔ ہم نے چاہا کہ اس چار منزلہ عمارت جو بیسمنٹ۔ گراونڈ اور پہلی دوسری منزلوں پر مشتمل تھی کی سیر کی جائے۔ ہم ممنون و مشکور ہیں کہ صدر الخدمت عبدالشکور صاحب نے نہ صرف عشائیہ ہمارے ساتھ کیا بلکہ ادارے کی سیر اور تفصیلات کے لیے ایک اسٹاف کو بھی متعین کردیا جس نے ہمیں نہ صرف پورے ادارے کی سیر کرائی بلکہ تفصیلات اور سوال و جواب سے بھی نوازا۔ یہ عمارت جدید طرز تعمیر اور سہولتوں کے ساتھ بیرونی طرف سے سرخ پتھروں کی بنی ہوئی ہے اور اس کی ڈیزائننگ اسے لاہور کی دیگر تاریخی عمارتوں کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔ اس میں الخدمت کی تقسیم کار کے اعتبار سے سات مختلف شعبہ جات ہیں۔ ہر شعبہ کو پہچان کے لیے ایک الگ نام اور کلر سے موسوم کیاگیا ہے۔ جسے دیکھتے ہی شعبہ کا نام اور کام نمایاں ہوجاتا ہے۔ شعبہ جات کا مختصر سا تعارف درج زیل ہے۔
1- نا گہانی آفات کا انتظام (اورینج کلر): اس کے تحت ناگہانی آفات کے ایک کروڑ بیس لاکھ متاثرین کی مدد کی گئی اور اس پر دو ہزار تین سو ملین کی خطیر رقم خرچ کی گئی۔ اس نظام کے تحت 25ہزار 253 رضاکار۔ 33 ٹریننگ۔ 6لاکھ 59ہزار 492 راشن پیکیجز۔ 6ہزار 518 شیلٹر ہومز اور 45 ریسپانس ہب کام کررہے ہیں۔
2- صحت کی خدمات (ریڈ کلر): صحت کے شعبہ میں ساڑھے سات لاکھ مریضوں پر تین ہزار نو سو ملین خرچ کیے گئے۔ اس کے تحت 40 اسپتال۔ 121 لیباریٹریاں۔ 40 فارمیسی۔ 53 میڈیکل سینٹرز۔ 288 ایمبولینسیں اور 436 میڈیکل کیمپس چلائے گئے۔
3- تعلیم و تربیت (پرپل کلر): تقریباً تیس ہزار مستحق طلبہ و طالبات پر ایک سو چودہ ملین کی رقم خرچ کی گئی۔ اس کے تحت 35 بچوں کے حفاظتی مراکز۔ 51 الخدمت اسکول۔ 4239 اسکالر شپ۔ ایک ہاسٹل اور 82 اسکل ڈیولپمنٹ سینٹرز کام کررہے ہیں۔
4- صاف پانی (لائٹ بلیو کلر): تیس لاکھ سے زیادہ افراد اس پروگرام سے فیضیاب ہوئے۔ اس پر ایک سو چورانوے ملین کی رقم خرچ ہوئے۔ اس پروگرام میں 140 فلٹریشن پلانٹ۔ دو ہزار سے زائد کنویں۔ 1100 واٹر پمپس۔ 7607 کمیونٹی ہینڈ پمپ۔ 79 گریویٹی فلوواٹر اسکیمیں۔ 25 سولر واٹر پمپس لگائے گئے۔
5- یتیم بچوں کی کفالت (گرین کلر): تقریباً پندرہ ہزار یتیم و مستحق بچوں کی کفالت پر ساڑھے نو سو ملین روپے خرچ ہوئے۔ اس کے تحت 66 کلسٹرز۔ 148 اسٹڈی سینٹرز۔ 557 پروگرامات۔ 13694 یتیم بچوں کی کفالت اور 1149 یتیم بچے آغوش پروگرام میں فیض یاب ہوئے۔
6- مواخات پروگرام (نیوی بلیو کلر): نو سو افراد پر تیئس ملین روپے خرچ ہوئے۔ 6814 افراد کو کاروبار کے لیے 160 ملین روپے کی رقم قرض حسنہ کی صورت میں دی گئی۔
7- کمیونٹی خدمات (سی گرین کلر): ساڑھے بائیس لاکھ لوگوں پر ساڑھے پانچ سو ملین کی خطیر رقم خرچ کی گئی۔ اس پروگرام میں 1672 وہیل چیئرز۔ 1467 قیدی حضرات۔ 24467 سردیوں کی امداد۔ 176691 رمضان فوڈ پیکیجز۔ 7514 شادی پیکیجز۔ 96 مساجد کی تعمیر۔ 17122 عید گفٹس۔ 956352 قربانی کے گوشت کی تقسیم۔ 451 سلائی مشینوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ اگر دیکھا جائے تو کل رقم 8 ہزار ملین روپے سے تجاوز کرجاتی ہے جو دو کروڑ پچاس لاکھ کے لگ بھگ متاثرین اور مستحقین میں تقسیم کی گئی۔
ان سات شعبہ جات کی مدد کے لیے مزید کئی شعبہ جات کام کررہے ہیں جو نہ صرف ان شعبہ جات کی مدد کرتے ہیں بلکہ مانٹرنگ۔ پلاننگ فائنانس اور ان کے پروگرامات پر عملدرآمد پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ ان میں پرسونل۔ فائنانس۔ آڈٹ اور انسپیکشن کے شعبہ جات بھی شامل ہیں۔ اسی طرح فنڈ ریزنگ کے لیے معاونین سے رابطہ رکھنے اور اس سلسلے میں فنڈریزنگ کی مہم چلانے کے لیے بھی علٰیحدہ شعبہ ہے۔ تقریباً 16ہزار 500 سے زائد افراد۔ خاندان۔ کارپوریٹ اور ادارہ جاتی ڈونرز ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد ماہانہ بنیاد پر تعاون کرنے والے ڈونرز ہیں۔ ساتھ ہی مستحقین کا کھوج لگانے اور درست معلومات کا بھی کمپیوٹرائزڈ نظام ہے۔ رضاکاروں کی ایک بہت ہی جزبہ خدمت سے سرشار ٹیم موجود ہے جو ہمہ تن گوش رہتی ہے اور ہمہ وقت تیار۔ ملٹی میڈیا اور کال سینٹر اور ایڈورٹائزمنٹ کے شعبے بھی کام کررہے ہیں۔ اور یہ سارے ادارے ایک انتہائی منظم مربوط نظام کے تحت ایک جنرل کونسل کے تحت کام کرتے ہیں۔ جو بہت ہی قابل اور جذبہ ٔ خدمت سے سرشار 33 رکنی کونسل ہے۔ الخدمت ہیڈ آفس کے تحت 9 ریجنل آفسیز اور 150 ڈسٹرکٹ اور شہروں کے دفاتر کام کررہے ہیں۔ یہ سارے اعداد و شمار ہمیں الخدمت کی 2020 کی سالانہ رپورٹ سے حاصل ہوئے ہیں جس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
کووڈ19 یعنی کورونا کی مہم کے دوران 31617 رضاکار۔ 4 پی سی آر لیبس۔ 6لاکھ 11ہزار 276 فوڈ پیکیجز۔ 22506 PPEs۔ 11 اسپیشل یونٹس قرنتینہ سینٹرز۔ 904361 تیار شدہ کھانا۔ 61468 عوامی مقامات پر کورونا کے خلاف اسپرے مہم۔ 1199568 فیس ماسک اور گلووز کی تقسیم عمل میں لائے گئے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس کمپلیکس کی کھلی چھت پر سولر سسٹم نصب ہے جو نہ صرف اس عمارت کی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اضافی بجلی واپڈا کو بھی دیتا ہے اور خود کفالت کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہی نہیں اس عمارت میں اسٹاف کے لیے ایک جمنازیم بھی ہے جس میں ورزش کے لیے 15 مشینیں لگی ہوئی ہیں اور ساتھ ہی بیڈمنٹن اور ٹیبل ٹینس کا انتظام بھی ہے اس طرح اسٹاف کی صحت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ بیسمنٹ میں ایک بہت بڑا آڈیٹوریم بھی ہے جس میں الخدمت کے پروگرام وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ یہ ادارہ اسی طرح انسانیت کی خدمت کرتارہے اور دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرتا رہے۔ الخدمت اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے۔ عوام الناس کو چاہیے کہ ایسے اداروں کے ساتھ دامے درمے سخنے ہر طرح سے تعاون کریں۔ اور خیر کی قوتوں کے ہاتھ مضبوط کریں۔