قوم پر سوالیہ نشان کیوں؟

300

معروف کالم نویس اور دانشور حسن نثار جب بھی بات کرتے ہیں ٹکا کر اور واضح الفاظ میں کرتے ہیں۔ چند روز قبل اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاں کہ ’’پیپلز پارٹی، پارٹی نہیں ہے، نون لیگ پولیٹیکل پارٹی نہیں ہے، یہ وہ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں ہیں، جو ووٹوں کا کاروبار کرتی ہیں، لوگوں کو بے وقوف بناتی ہیں، انہیں ایکسپلائٹ کرتی ہیں، اپنے اپنے انداز میں مارکیٹنگ کیا کرتی ہیں اپنے اپنے انداز میں وہ ووٹ لیتی ہیں یہ بنیادی طور پر، اصل میں سیاست بذریعہ دولت اور، پھر دولت بذریعہ سیاست کیا کرتے ہیں، یہ وہ شیطان کا چکر ہے جس میں پورا پاکستان الجھا ہوا ہے یہ بات بھی یاد رکھیں کہ کمپنیاں اپنے بچوں ہی کو منتقل ہوتی ہیں۔
حسن نثار کی ان باتوں سے یقینا ہر کوئی اتفاق کرے گا۔ گو کہ یہ سمجھا جائے کہ ملک میں شیطانی چکرا شیاطین کے غلبے یا شیاطین کی چالوں سے ہے۔ ملک کے اکثر سیاستدان اور سیاسی جماعتیں دین سے دور رہ کر شیطانوں کے مراکز بن چکی ہیں۔ حد تو یہاں تک ہے کہ بعض مذہبی جماعتیں بھی سیاست کے نام پر شرعی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مفادات کی باتیں کیا کرتی ہیں۔ مگر یہ قوم کی خوش قسمتی ہے کہ جماعت اسلامی نا صرف اسلامی اقدار کی پاسداری کیا کرتی ہے، بلکہ شرعی احکامات کو بھی ترجیحی بنیادوں پر اپنے اوپر رائج کر کے سیاست کو بطور عبادت اپنائے ہوئے ہے۔ جماعت اسلامی ہی ملک کی وہ واحد جماعت ہے جو کرپشن سے پاک ہے اس بات کی عدالت عظمیٰ بھی گواہ ہے۔ یہ لمیٹڈ کمپنی ہونے کے الزامات سے بھی پاک ہے۔ جبکہ صرف پیپلز پارٹی مسلم لیگ ہی نہیں بلکہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کو سامنے رکھ کر جماعت اسلامی کے پورے ڈھانچے، اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ پاکستان واحد سیاسی جماعت ہی نہیں بلکہ ایک اسلامی اصولوں اور ضابطوں سے روشناس کرانے کی درسگاہ ہے۔ جو اپنے وسائل اور منشور کی پابندی کرتے ہوئے عوام کی خدمت کرنے اور ان کی اصلاح کی کوششیں کر رہی ہے۔ چونکہ ملک پر اس کے قیام سے لے کر اب تک ایسی سیاسی جماعتوں کا غلبہ رہا ہے جو اسلامی احکامات کی پابندی کیے بغیر محض اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے سرگرم رہی ہیں، نتیجے میں دنیاوی لحاظ سے شیاطین کی پسندیدہ اور پرکشش حرکات نے پوری قوم ہی کو اپنا گرویدہ بنایا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام ہمیشہ ہی دھوکے باز، جھوٹے اور مکروہ حرکتیں کرنے والی سیاسی جماعتوں کی چالوں میں پھنسی ہوئی ہے۔
ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی لوگ ایک بار پھر ’’تحریک انصاف‘‘ کے نام پر انصاف سے نہ بلد سیاستدانوں کے چنگل میں پھنس چکے ہیں۔ اگرچہ وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ تاثر بھی موجود ہیں کہ ’’وہ کرپٹ نہیں ہیں‘‘۔ ہجوم نما قوم کی یہ بھی بدقسمتی ہے کہ وہ جھوٹے اور مکار اذہان کے افراد کو کرپٹ تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ حالانکہ اللہ کی اس سرزمین پر کوئی بھی غلط کام اور کرپشن بغیر جھوٹ بولے اور اس پر قائم رہے ممکن نہیں ہوسکتی۔ اب اگر وزیراعظم عمران خان کے لیے کسی بھی عالم یا اسلامی مملکت کی جانب سے یہ سند دی جاتی کہ وہ جھوٹے نہیں ہے یا جھوٹ نہیں بولتے تو مجھ سمیت پوری قوم کو یہ یقین کرلیتی کہ ہمارا وزیراعظم عمران خان سچا انسان ہے۔ لیکن قوم ان کے ماضی کے بیانات، اور باتوں پر نظر ڈالے تو جھوٹ، دھوکا دہی اور غلط بیانی کا ایک غلیظ پہاڑ نظر آتا ہے۔ ایسے میں ملک کی موجودہ حزب اقتدار کی جماعت کو ان ہی پارٹیوں کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے جنہیں حسن نثار نے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں یا ووٹوں کا کاروبار کرنے والی کمپنیاں قرار دیا ہے۔ گو کہ نئے پاکستان میں کچھ اور تو نہیں ہوا سوائے اس کے کہ ووٹوں کا کاروبار کرنے والی ایک نئی کمپنی کا قیام عمل میں آگیا۔ اس نئی کمپنی کے قیام سے یہ بات بھی ثابت ہورہی ہے کہ ہم پاکستانی ڈھونڈ کر اور جدوجہد کرکے صرف ایک نئی سیاسی کمپنی قائم کرنے کے بعد اسے زیادہ سے زیادہ سلیقے اور طریقہ کے ساتھ اقتدار میں لا سکتے ہیں لیکن ان لوگوں کو اپنے درمیان موجود لوگوں کی بلا امتیاز خدمت کرنے والی ایماندار جماعت اسلامی پاکستان نظر نہیں آتی۔ جب ایسا ہوگا تو ملک کیسے بدلے گا، نظام حکمرانی کو کون بدل سکے گا؟ اسلامی جمہوریہ مملکت میں یہ کام قومیں کیا کرتی ہیں مگر بدقسمتی سے بحیثیت قوم ہم پر ہی سوالیہ نشان ہے۔ یہ سوالیہ نشان اس وقت تک رہے گا جب تک قوم خود کو ذہنی طور تبدیل کرکے ایماندار اور دیانت سیاستدانوں کی جماعت کو اقتدار میں نہیں لاتی، اس مقصد کے لیے ہم سب کو ہمارے درمیان موجود سیاسی جماعتوں اور اس سے وابستہ سیاست دانوں کو جانچنا اور پرکھنا ہوگا، ان کے ماضی کے ساتھ حال پر بھی گہرائی سے نظر رکھنی چاہیے اور عام انتخابات کے وقت اپنی پسندیدہ اور ایماندار شخصیت کو ووٹ دے اور دلاکر کامیاب کرانا چاہیے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ’’کسی قوم کی حالت اس وقت تک اللہ بھی نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے‘‘۔