آباد نے تعمیراتی صنعت کے تحفظ کیلئے 5 نکاتی مطالبہ پیش کردیا

165
کراچی: چیئرمین آباد محسن شیخانی پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین محسن شیخانی نے کہا ہے کہ حکومت سے کوئی مراعات یا زمین نہیں مانگتے،ہمیں قانون کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی جائے،سندھ میں تعمیراتی شعبے کی ترقی اور تحفظ کے لیے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو 5 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا ہے۔ان خیالا ت کا اظہارانہوں نے گزشتہ روزکراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پرآباد کے سینئر وائس چیئرمین محمد حنیف میمن،وائس چیئر مین الطاف کانٹا والا،آباد سدرن ریجن کے چیئرمین سفیان آڈھیا سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ محسن شیخانی نے کہا کہ آباد غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ہے اور ہمیشہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آباد نے آواز اٹھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں تعمیراتی شعبے کو نقصان ہوگا تو سیکڑوں ذیلی صنعتوں کو بھی نقصان ہوگا،شہرکی انجینئرنگ یونیور سٹی سے فارغ التحصیل انجینئرز کو روز گارملنا مشکل ہوگا،تعمیراتی شعبے سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے،ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ میں تعمیراتی پروجیکٹس کی این او سیز کی اپروول کے لیے سنگل اتھارٹی قائم کی جائے اور اس اتھارٹی کو کوئی بھی چیلنج نہ کرسکے۔محسن شیخانی نے کہا کہ سنگل اتھارٹی رجسٹریشن سے سندھ میں تعمیراتی شعبہ ترقی کرے گا جس سے سندھ کے عوام کو روزگار اور صوبے کی معیشت کو بھی ترقی ملے گی،ہمارا دوسرا مطالبہ ہے کہ 12 ماہ کے اندر کراچی کے لیے ماسٹر پلان بنایا جائے اورماسٹرپلان کی تیاری میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے، ماسٹر پلان سے کراچی کے انفرا اسٹراکچر کو فائدہ ملے گا اور ماسٹر پلان ڈاکومنٹیشن اور دیگر معاملات پر بھی غور ہوگا ، ہم نے وزیر اعلیٰ سندھ سے کہا ہے کہ پنجاب طرز کا سندھ میں بھی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ ہر کیس کو قانون کے مطابق سنا جائے اور مسئلے کو ختم کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعلیٰ سندھ سے جن مسائل اور قوانین پر بات کی ہے اگر قانون بن جائے اور لیگل کام کرنے والوں کو تحفظ ملے تو یہا ں کے بلڈرز اور ڈیولپرز میں اتنا پوٹینشل ہے کہ کراچی جو اس وقت پاکستان کے ریونیو میں 62 فیصد حصہ دیتا ہے وہ 120 فیصد ہوسکتا ہے۔