ٹی ایل پی کی طرح ایم کیوایم کے جرائم معاف کئے جاسکتے ہیں،پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے

178

اسلام آباد (میاں منیر احمد) ٹی ایل پی کی طرح ایم کیو ایم کے جرائم معاف کیے جا سکتے ہیں‘ پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے ‘ شہر قائد کے سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے مافیا کی سرپرستی قوم کے ساتھ ظلم ہو گا‘ کراچی الگ صوبہ بھی بن سکتا ہے‘ مقتدرہ نے اپنے مقاصد کے لیے مختلف گروہوں کو استعمال کیا‘ ٹی ایل پی نے آئین کو چیلنج نہیں کیا‘ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا پھر حالات خراب ہوئے۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی شمالی پنجاب کے رہنما اقبال خان، مسلم لیگ (ج) کے صدر اقبال ڈار، اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے سابق سینئر نائب صدر، آل ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما، سپریم کونسل کے رکن عمران بخاری، سینئر اخبار نویس اور تجزیہ کار مقبول لودھی، مسلم لیگ (ن) کے رہنما، سابق وفاقی وزیر برجیس طاہر اور فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے مرکزی رہنما اسرار الحق مشوانی نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ’’کیا ٹی ایل پی کی طرح ایم کیو ایم کے جرائم کو بھی معاف کردیا جائے گا؟‘‘ اقبال خان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے جرائم بارہا معاف کیے گئے ہیں‘ اصل مقتدرہ نے ہمیشہ اپنے مقاصد کے لیے لوگوں اور مختلف گروہوں کو موقع محل کی مناسبت سے استعمال کیا ہے‘ اگر کراچی کے سیاسی خلا کو مصنوعی طور پر پُر کرنے کے لیے مافیا کی سرپرستی کی گئی تو یہ قوم کے ساتھ ظلم ہو گا۔اقبال ڈار نے کہا کہ ابھی ایم کیو ایم کے جرائم کو معاف کرنے کے حوالے سے ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے‘ سیاسی کارکن کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ مفروضوں کے بجائے حقائق پر بات کرتا ہے اور اسی پر اپنا تجزیہ دیتا ہے ‘کبھی کوئی بات وقت سے پہلے نہیں کی جاسکتی اور نہ کی جانی چاہیے‘ ہم ایک واقعے کی بنیاد پر کوئی مثال کسی دوسرے واقعے کے ساتھ نہیں جوڑ سکتے‘ ٹی ایل پی کا کیس سمجھا جائے‘ اس نے ملک کے آئین کو چیلنج نہیں کیا اور نہ ہی قومی سلامتی کے اداروں پر کوئی تبصرے کیے ہیں‘ اس کا ایک مطالبہ تھا کہ گستاخانہ خاکوں کے مرتکب ملک کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے‘ جب اس کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تو حالات خراب ہوئے جس کے نتیجے میں اسے پابندی کا سامنا کرنا پڑا‘ دونوں جماعتوں کے کیس مختلف ہیں۔عمران بخاری نے کہا کہ ایم کیو ایم کے جرائم معاف کرنے کے امکانات ہیں‘ ہمیں اپنی سیاسی تاریخ میں ایسے بہت موڑ نظر آتے ہیں جہاں ہمیںکچھ ایسے فیصلے ملتے ہیں جن پر یقین کم ہی کیا جاسکتا ہے مگر ایسا ہوا ہے لہٰذا جو سوال آپ نے پوچھا ہے اس کا جواب بھی ماضی کے مشاہدے اور پیش آنے والے تجربے کی روشنی میں دیا جائے تو جواب مثبت ہی ہوگا۔ مقبول لودھی نے کہا کہ ٹی ایل پی کی طرح ایم کیو ایم کے جرائم بھی معاف کردیے جائیں گے‘ ہمیں حالات پر نظر رکھنی چاہیے اور درست انداز میں چیزوں کو دیکھنا چاہیے تاکہ بہتر تجزیہ کرنے میں مدد مل سکے۔ اجمل خان نے کہا کہ بالکل امکان ہے کہ ایم کیو ایم کے جرائم معاف کیے جائیں گے اور جلد ہی وہ منظر بھی آپ دیکھیں گے جس کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی تھی‘ کراچی الگ صوبہ بھی بن سکتا ہے‘ دسمبر تک کوئی نتیجہ سامنے آنے کی توقع ہے۔ برجیس طاہر نے کہا کہ اس وقت ملک سیاسی بحران کا شکار ہے اور ہمیں بھارت کی جانب سے بھی خطرات درپیش ہیں‘ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بے رحمانہ پامالی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی برادری سے چھپانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کی جو مہم شروع کر رکھی ہے اسے آگے بڑھاتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان پر فضائی حملے اور سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی دی ہے اور الزام لگایا ہے کہ پاکستان بھارت کو دہشت گردی کے ذریعے غیرمستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات ہیں ہمیں اپنے ملک میں ایسی فضا قائم کرنی ہے جس سے دشمن کی چالوں کا بہتر مقابلہ کیا جاسکے‘ جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے ‘ یہ سوال ابھی قبل از وقت ہے ابھی اس پر کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ اسرار الحق مشوانی نے کہا کہ ملک بھر میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی ضرورت ہے‘ وزیراعظم اور ان کی کابینہ میں شامل وزرا اور مشیران اعلانات اور دعوے تو بہت سے کرتے ہیں لیکن عملی طور پر حکومت کو کوئی کامیابی ملتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی‘ اس وقت حکومت اور ہر طرح کا اختیار عمران خان کے ہاتھ میں ہے لہٰذا انہیں چاہیے کہ عوام کا اعتماد بحال کریں۔