آباد نے تعمیراتی شعبے کے تحفظ کیلئے حکومت کو5 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا

210

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین محسن شیخانی نے کہا ہے کہ حکومت سے کوئی مراعات یا زمین نہیں مانگتے،ہمیں قانون کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی جائے،سندھ میں تعمیراتی شعبے کی ترقی اور تحفظ کے لیے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو 5 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا ہے۔

ان خیالا ت کا اظہارانہوں نے بدھ کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پرآباد کے سینئر وائس چیئرمین محمد حنیف میمن،وائس چیئرمین الطاف کانٹا والا،آباد سدرن ریجن کے چیئرمین سفیان آڈھیا سمیت دیگر بھی تھے۔

محسن شیخانی نے کہا کہ ہم سندھ حکومت سے کوئی مراعات یا زمین نہیں مانگتے بلکہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں قانون کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی جائے،آباد غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ہے اور ہمیشہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آباد نے آواز اٹھائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں تعمیراتی شعبہ کو نقصان ہوگا تو سیکڑوں ذیلی صنعتوں کو بھی نقصان ہوگا،ہمارے شہر کے انجینئرنگ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل انجینئرز کو روزگار ملنا مشکل ہوگا۔

تعمیراتی شعبے سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ میں تعمیراتی پروجیکٹس کی این او سیز کی اپروول کے لیے سنگل اتھارٹی قائم کی جائے اور اس اتھارٹی کو کوئی بھی چیلنج نہ کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام قوانین پر عمل کرنے اور اربوں روپے کی ٹیکس ادا کرنے کے عمارتیں تعمیر کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں بے ضابطگیاں ہوئیں اور عمارتوں کی مسماری کے حکام جاری کیے جاتے ہیں۔

محسن شیخانی نے کہا کہ سنگل اتھارٹی رجسٹریشن سے سندھ میں تعمیراتی شعبہ ترقی کرے گا جس سے سندھ کے عوام کو روزگار ملے گا اور سندھ کی معیشت کو بھی ترقی ملے گی۔

ہمارا دوسرا مطالبہ ہے کہ 12 ماہ کے اندر کراچی کے لیے ماسٹر پلان بنایا جائے اورماسٹرپلان کی تیاری میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔ ماسٹر پلان سے کراچی کے انفرا اسٹراکچر کو فائدہ ملے گا اور ماسٹر پلان ڈاکیومنٹیشن اور دیگر معاملات پر بھی غور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلیٰ سندھ سے کہا ہے کہ پنجاب طرز کا سندھ میں بھی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ ہر کیس کو قانونی کے مطابق سنا جائے اور مسئلے کو ختم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعلیٰ سندھ سے جن مسائل اور قوانین پر بات کی ہے اگر قانون بن جائیں اور لیگل کام کرنے والوں کو تحفظ ملے تو یہا ں کے بلڈرز اور ڈیولپرز میں اتنا پوٹینشل ہے کہ کراچی جو اس وقت پاکستان کے ریونیو میں 62 فیصد حصہ ہے وہ 120 فیصد ہوسکتا ہے۔