بیت المقدس میں 58 مکان گرانے کی اجازت

107

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی عدالت نے مقبوضہ بیت المقدس کی سلوان میونسپلٹی میں واقع وادی یاصول کالونی کے 58 مکانات کو مسمار کرنے کی اجازت دے دی۔ خبررساں اداروں کے مطابق اسرائیلی عدالت نے یاصول کے باشندوں کی جانب سے گھر مسمار کرنے کے اسرائیلی فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل سننے تک سے انکار کر دیا۔ صہیونی عدالت کے فیصلے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس کی سلوان بلدیہ جب چاہے فلسطینیوں کے 58 مکانات گرا سکتی ہے۔ کالونی میں کل 84 ایسے مکانات ہیں، جنہیں یہودیوں کے لیے آباد کاری کے توسیعی منصوبے کی وجہ سے گرائے جانے کے خطرات لاحق ہیں۔ مکانات گرانے جانے کی صورت میں مقبوضہ بیت المقدس کے 600 رہایشی جن میں سیکڑوں بچے، معذور، بزرگ اور مریض شامل ہیں در بدرہو جائیں گے۔ سلوان کے جنوب مغرب میں واقع وادی یاصول کالونی کا رقبہ 310 ایکڑ پر محیط ہے، جہاں ایک ہزار 50 شہری آباد ہیں۔ کالونی کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ خالد شویکی کا کہنا ہے کہ ہم مکانات گرانے سے متعلق اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔ کسی کو کالونی کا ایک پتھر اور درخت بھی اکھاڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسرائیل ہماری کالونی گرا یہودی آبادکاروں کی تفریح کے لیے پارک بنانا چاہتا ہے۔ ادھر قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس ہی میں جبل مکبر کے مقام پر فلسطینی خاندان کو اپنے ہاتھوں سے مکان ڈھانے پر مجبور کردیا۔ قابض حکام نے امیر ربایعہ نامی فلسطینی کے چھوٹے سے مکان کو بھی نہ بخشا اور اسے مسماری کا نوٹس دے دیا۔ دوسری جانب مغربی کنارے کے صدر مقام رام اللہ کے مغرب میں واقع راس کرکر نامی فلسطینی بستی کے رہایشیوں نے آبائی زمینوں سے بے دخل ہونے سے انکار کرکے مزاحمت کا اعلان کردیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اہل علاقہ نے بتایا کہ ان کی بستی قابض اسرائیلی فوج کی مسلسل دھمکیوں کی زد میں ہے۔ قابض فوج نے سیکورٹی خدشات کی آڑ میں جبل ریسان کے قریب واقع رام اللہ کی 2 بستیوں راس کرکر اور کفر نعمہ کی کئی ایکڑ اراضی کو ہدف بنارکھا ہے۔ صہیونی فوج کااعلیٰ افسر یہودا فوکس فلسطینیوں کو اراضی خالی کرنے کا حکم نامہ جاری کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ جبل ریسان رام اللہ کے شمال مغرب میں واقع ایک بستی ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ صدیوں سے یہ زمینیں ہمارے آباو اجداد کی میراث ہیں اور ان سے دستبردار ہونا کسی صورت بھی ہمارے لیے قابل قبول نہیںہے۔