روسی فوج یوکرائنی سرحد پر جمع نیٹو ممالک سر جوٹ کر بیٹھ گئے

207
لٹویا: نیٹو افواج مشق کررہی ہیں‘ برطانوی وزیر دفاع معاینے کے لیے موجود ہیں

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) روس نے پولینڈ کے ساتھ جاری مہاجرین سے متعلق تنازع پر کے تناظر میں بیلاروس کے ساتھ فوجی مشقوں کا اعلان کردیا۔ اس سے قبل یوکرائنی باغیوں کے زیر قبضہ متنازع علاقے میں روسی فوج کی بڑے پیمانے پر ہل چل نوٹ کی گئی تھی۔ دوسری جانب شمالی اوقیانوس کے ممالک کے عسکری اتحادنیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے یوکرائن کے حوالے سے روس کو خبردار کیا ہے۔ لیٹویا میں منگل کے روز نیٹو فورسز کا دورہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روس کے ارادے ٹھیک نہیں نظرآرہے۔ رواں سال دوسری بار روسی فوج غیر معمولی طور پر جمع ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھاری عسکری ساز و سامان، ڈرون طیارے، حربی نظام اور ہزاروں فوجیدیکھ رہے ہیں جو لڑائی کے لیے تیار ہیں۔تاہم کریملن کو جان لینا چاہیے کہ اسے یوکرائن کے خلاف کوئی بھی مہم جوئی مہنگی پڑے گی۔ خبررساں اداروں کے مطابق لیٹویا کے دارالحکومت ریگا میں نیٹو کے وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران یوکرائنی سرحد پر روسی عسکری کمک روکنے کے معاملے کو زیر بحث لایا گیا۔ مغربی ممالک کئی بار خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ ماسکو یوکرائن کے اندر فوجی مداخلت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ادھر ماسکو نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ماسکو نے نیٹو اتحاد کو کشیدگی پھیلانے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ اس سے قبل یوکرائن نے نیٹو اتحادیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ روس کو حملے سے روکنے کے لیے تیزی سے فوج کو حرکت میں لایا جائے، کیوں کہ ماسکو پلک جھپکنے میں حملہ شروع کر سکتا ہے۔ یوکرائنی وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ روس پر روک لگانے کر اسے حملہ کرنے سے باز رکھنا بہتر ہوگا۔ روس نے سرحد پر جزیرہ نما قرم میں اور مشرق میں علاحدگی پسندوں کے زیر قبضہ علاقوں میں سوا لاکھ فوجی اکٹھے کر لیے ہیں۔ واضح رہے کہ روس اور یوکرائن کے تعلقات 2014ء کے بعد سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ یوکرائن کی ماسکو نواز علاحدگی پسندوں کے ساتھ جنگ ہے۔ خیال رہے کہ رواں برس مئی میں بھی روس نے یوکرائنی سرحد پر قریب ایک لاکھ فوجی تعینات کیے تھے۔ مغربی حکام کے مطابق کریمیا کے علاقے پر روسی قبضے کے بعد اس سطح کی یہ سب سے بڑا روسی عسکری نقل و حمل ہے۔