سوڈان: صدارتی محل کی جانب مارچ پر بہیمانہ تشدد

174
خرطوم: مظاہرین صدارتی محل کی جانب مارچ کررہے ہیں‘ نوجوان آنسوگیس میں گھرے ہوئے ہیں

خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں ملین مارچ کال کے بعد دارالحکومت خرطوم میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے اور شہریوں نے صدارتی محل کی طرف مارچ کیا۔ اس دوران پولیس اور فوج نے مظاہرین کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے لاٹھی چارج کیا اور ان پر آنسوگیس کی بے دریغ شیلنگ کی،جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہروں کے شرکانے سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البراہان اور وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والی ساز باز کی مذمت کی۔ انہوں نے حکومت میں عسکری اور عوامی نمایندوں کی شراکت داری کو مسترد کر دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سوڈان کی کئی سیاسی جماعتوں نے حالیہ مظاہروں کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دارالحکومت خرطوم میں گزشتہ ہفتے بھی سیاسی معاہدے کے خلاف مظاہرے دیکھے گئے تھے۔ ادھر دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور مظاہروں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ وزیر اعظم عبداللہ حمدوک نے بھی اپنے بیان میں زور دیا کہ آزادی اظہار کے حق کے تحفظ اور مظاہرین کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔