آنگ سان سوچی کے خلاف مقدمے کا فیصلہ مؤخر

174

نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر کی خاتون رہنما آنگ سان سوچی کے خلاف عدالت نے فیصلے کا اعلان ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق الزام ثابت ہونے کی صورت میں سوچی بقیہ تمام عمر جیل میں بسر کر سکتی ہیں۔ میانمر کی ایک عدالت نے معزول سیاسی رہنما اور آنگ سان سوچی کے خلاف ایک مقدمے کے ابتدائی فیصلے کا اعلان مؤخر کرتے ہوئے 6دسمبر کو فیصلہ سنانے کا عندیہ دیا۔ مقدمے میں ان پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کے ضوابط کی خلاف ورزی کے علاوہ فوج کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکائے تھے۔ انہیں رواں برس یکم فروری کو فوجی بغاوت کے بعد فوج کے سب سے سینئر جرنیل کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت نے گرفتار کیا گیا تھا۔ آنگ سان سوچی کو گرفتار کرنے کے بعد سے فوجی حکومت کے استغاثہ نے ان پر کئی قسم کے الزامات عائد کر رکھے ہیں۔ ان میں ایک تو وہ ہے، جس کا فیصلہ اب 6دسمبر کو سنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک اور مقدمے میں بغیر لائسنس کے واکی ٹالکی ٹیلی فون سیٹ رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ایک اور مقدمہ سرکاری راز کے قانون کی عدم پاسداری ہے۔