تھیلیسیمیا جنیاتی بیماری ہے ، یہ ساری زندگی ٹھیک نہیں ہوتی ڈاکٹر

134

 

بدین (نمائندہ جسارت) تھیلیسیمیاکیئر سینٹر بدین میں تھیلیسیمیا کی بیماری کے خطرات نقصانات بیماری پر قابو احتیاطی تدبیر علاج اور دیگر طبی مسائل پر آگاہی اور گفتگو کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار میں طبی ماہرین کا لیکچر،منو بھائی تھیلیسیمیا کیئر سینٹر میں منعقد سیمینار میں ڈپٹی کمشنر بدین آغا شاہ نواز خان اسسٹنٹ کمشنر محمد یونس رند خون جگر تھیلیسیمیا کی بیماری کے علاج کے ماہر ڈاکٹرز سمیت ڈاکٹرز کاروباری شخصیات شہریوں صحافیوں کے علاوہ تھیلیسیمیا کی بیماری میں مبتلا بچوں اور ان کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر تھیلیسیمیا خون جگر کی بیماری کی ماہر ممبر این سی او سی آغا خان اسپتال کی معروف ڈاکٹر بشری جمیل طبی ماہرین ڈاکٹر اقبال کاشف ڈی ایچ او بدین ڈاکٹر فاروق لغاری ڈاکٹر ہارون میمن ڈاکٹر محبوب خواجہ غلام قادر جونیجو نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھیلیسیمیا ایک مورثی بیماری ہے یہ والدین کی جینیاتی خرابی کے باعث اولاد کو منتقل ہوتی ہے. اس بیماری کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کم بنتا ہے۔جنیاتی اعتبار سے تھیلیسیمیا کی دو بڑی قسمیں ہیں جنہیں الفا تھیلیسیمیا اور بی ٹا تھیلیسیمیا کہتے ہیں۔ نارمل انسانوں کے خون کے ہیمو گلوبن میں دو الفا اور دو بی ٹا زنجیریں ہوتی ہیں۔ مرض کی شدت کے اعتبار سے تھیلیسیمیا کی تین قسمیں ہیں شدید ترین قسم تھیلیسیمیا میجر کہلاتی ہے اور سب سے کم شدت والی قسم تھیلیسیمیا مائینر کہلاتی ہے اور درمیانی شدت والی قسم تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا کہلاتی ہے۔ایک طرح کا تھیلیسیمیا کبھی بھی دوسری طرح کے تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ماہرین نے کہا تھیلیسیمیا مائینر کی وجہ سے مریض کو کوئی تکلیف پریشانی یا شکایت نہیں ہوتی نہ اس کی زندگی پر کوئی خاص اثر پڑتا ہے ایسے لوگ کیریئر کہلاتے ہیں۔ علامات و شکایات نہ ہونے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی تشخیص صرف لیبارٹری کے ٹیسٹ سے ہی ہو سکتی ہے۔ ایسے لوگ نارمل زندگی گزارتے ہیں مگر یہ لوگ تھیلیسیمیا اپنے بچوں کو منتقل کر سکتے ہیں۔ تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا بیشتر افراد اپنے جین کے نقص سے قطعاً لاعلم ہوتے ہیں اور جسمانی، ذہنی اور جنسی لحاظ سے عام لوگوں کی طرح ہوتے ہیں اور نارمل انسان جتنی ہی عمر پاتے ہیں۔ تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا خواتین جب حاملہ ہوتی ہیں تو ان میں خون کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ کسی کو تھیلیسیمیا میجر صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اس کے دونوں والدین کسی نہ کسی طرح کے تھیلیسیمیا کے حامل ہوں۔تھیلیسیمیا میجر کے مریضوں میں خون اتنا کم بنتا ہے کہ انہیں ہر دو سے چار ہفتے بعد خون کی بوتل لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسے بچے پیدائش کے چند مہینوں بعد ہی خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی بقیہ زندگی بلڈ بینک کی محتاج ہوتی ہے۔ کمزور اور بیمار چہرے والے یہ بچے کھیل کود اور تعلیم دونوں میدانوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور معاشرے میں صحیح مقام نہ پانے کی وجہ سے خود اعتمادی سے محروم ہوتے ہیں۔ بار بار خون لگانے کے اخراجات اور اسپتالوں کے چکر والدین کو معاشی طور پر انتہائی خستہ حال کر دیتے ہیں جس کے بعد نامناسب علاج کی وجہ سے ان بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ مقررین نے کہا ترقی یافتہ ممالک میں بہترین علاج کے باوجود یہ مریض 30 سال سے 40 سال تک ہی زندہ رہ پاتے ہی جبکہ پاکستان میں ایسے مریضوں کی عمر لگ بھگ دس سال ہوتی ہے۔ اگر ایسے بالغ مریض کسی نارمل انسان سے شادی کر لیں تو ان کے سارے بچے لازماً تھیلیسیمیا مائینر کے حامل ہوتے ہیں. ڈاکٹر کا کہنا تھا اگر والدین کسی بھی قسم کے تھیلیسیمیا کے حامل نہ ہوں تو سارے بچے بھی نارمل ہوتے ہیں۔اگر والدین میں سے کوئی بھی ایک تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہو تو ان کے 50 فیصد بچے تو نارمل ہوں گے جبکہ بقیہ 50 فیصد بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہوں گے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ ایسے کسی جوڑے کے سارے بچوں کو تھیلیسیمیا مائینر ہو یا چند بچوں کو ہو یا کسی بھی بچے کو نہ ہو۔اگر دونوں والدین تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہوں تو 25 فیصد بچے نارمل، 50 فیصد بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا جبکہ 25 فیصد بچے تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا ہوں گے. اگر والدین میں سے کوئی بھی ایک تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہو تو ان کے سارے کے سارے بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہوں گے۔ ڈاکٹر نے اس موقع احتیاطی تدابیر پر زور دیتے ہوئے کہا تھیلیسیمیا مائینر یا میجر کے افراد کی آپس میں شادی نہیں ہونی چاہیے۔ جن خاندانوں میں یہ مرض موجود ہے ان کے افراد کو اپنے خاندان میں شادی نہیں کرنی چاہئے. اگر ایسے افراد شادی کر چکے ہوں تو وہ بچے پیدا کرنے سے پہلے ماہرین سے ضرور مشورہ کریں۔اگر ایسے افراد شادی کر چکے ہوں اور حمل ٹہر چکا ہو تو حمل کے دسویں ہفتے میں بچے کا تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کروایں۔ڈاکٹرز نے کہا تھیلیسیمیا ایک جینیاتی بیماری ہے اور یہ ساری زندگی ٹھیک نہیں ہوتی۔اگر خون کی کمی ہو تو تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد کو روزانہ ایک ملی گرام فولک ایسڈ کی گولیاں استعمال کرتے رہنا چاہیے تاکہ ان میں خون کی زیادہ کمی نہ ہونے پائے۔ خواتین میں حمل کے دوران اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ ڈاکٹرز نے کہا بی ٹا تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا افراد کو ہر دو سے چار ہفتوں کے بعد خون چڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔