حکومت اور محکموں کی رسہ کشی میں حیدرآباد کچرے کا ڈھیر بن گیا ، الطاف میمن

91

 

 

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد الطاف میمن نے کہا کہ حیدرآباد کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، شہر کو لاوارث چھوڑ دیا گیا، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور ہر کمرشل روڑ پر گندا پانی جمع ہونا روز کا معمول بن گیا ہے۔ خاص طور پر فقیر کا پڑ، کلاتھ مارکیٹ، میمن اسپتال، ٹمبر مارکیٹ، پھلیلی اور اسٹیشن روڑ پر ابلتے گٹر اور بہتے نالوں سے شہریوں کی آمد و رفت اور کاروبار شدید متاثر ہورہا ہے، تاجر برادری اور چھوٹے دکاندار آئے روز کے مسائل سے ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کا وفاقی حکومت سے
18ویں ترمیم کے بعد سے فنڈز نہ دینے کی شکایتیں اور بلدیاتی اداروں کی حکومت سندھ سے فنڈز جاری نہ کرنے کی داد خواہی کئی سالوں سے چل رہی ہے جبکہ ان تمام محکموں اور حکومت کی رسہ کشی سے حیدرآباد کے عوام خاص طور پر تاجر برادری اور چھوٹے دکاندار زبوں حالی کا شکار ہیں۔ الطاف میمن نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ، ڈائریکٹر جنرل ادارئہ ترقیات حیدرآباد، اور منیجنگ ڈائریکٹر واسا سے اپیل کی ہے کہ خدارا حیدرآباد کے حال پر رحم کریں، حیدرآباد کی سڑکوں ، گلی محلوں، بڑے بازاروں سے کچرے کے ڈھیر اٹھائے جائیں اور شہر کے نکاسی آب کے نظام کو بہتر کیا جائے ۔