فرنیچر کے تاجروں نے اہل خانہ کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کی دھمکی دے دی

145
نائب صدر پاکستان فرنیچر ایسوسی ایشن رانا وحید کی قیادت میں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جا ر ہا ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) فرنیچر کے تاجروں نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مظاہرہ کرنے کی دھمکی دے دی ،ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس کے لیے نوٹسز کا سلسلہ کاٹیج انڈسٹری کے ساتھ دشمنی ہے، ایف بی آر والے مار کیٹوں میں ہتھکڑی لیے پھر ر ہے ہیں ، جس سے تاجروں میں سخت خوف ہراس پا یا جا تا ہے ،کاروبار پہلے ہی کورونا کی وجہ سے تباہ ہے ،رہی سہی کسر ایف بی آر نے پوری کردی ۔رانا وحید ، چودھری ذیشان گجر اور دیگر کی پریس کانفرنس واحتجاجی مظاہرے سے خطاب ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان فرنیچر ایسوسی ایشن کے نائب صدر رانا وحید ،محمدی فرنیچر مارکیٹ منظور کالونی کے جنرل سیکرٹری چودھری ذیشان گجر ، نر سری فرنیچر مارکیٹ کے صدر جاوید الٰہی،لیاقت آباد فرنیچر مارکیٹ کے صدر حسیب اخلاق،ای مارکیٹ فرنیچر مارکیٹ کے صدر محمد ارشاد، توحید کمرشل فرنیچر مارکیٹ کے صدر فواد شیخ اور دیگر نے گزشتہ روزکراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سال سے فرنیچر کے شوروم مالکان کو فیڈرل بورڈ آف رینیو ( ایف بی آر ) کی جانب سے سیلز ٹیکس میں لانے کے لیے نوٹس جاری کیے جارہے ہیں اور ایف بی آر کے اہلکار مختلف مارکیٹوں میں تاجروں کو ہراساں کررہے ہیں ،جس کی وجہ سے فرنیچر کے کاروبار سے وابستہ تاجر برادری شدید خوف کا شکار ہے اور ہمارے لیے کاروبار کرنا مشکل بنادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر کے تمام کارخانے جب فرنیچر کی تیاری کے لیے خام مال کی خریداری کرتے ہیں تو اس مال پر17فیصد جی ایس ٹی ادا کرتے ہیں جبکہ فرنیچر کا شمار کاٹیج انڈسٹری میں ہوتا ہے جس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔