کراچی لا وارث کیوں؟

419

کراچی وطن عزیز کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور سب سے زیادہ حکومت کو ٹیکس کراچی ہی سے ملتا ہے آج سے دس سال پہلے تک کراچی میں ہر طرف بدامنی، خوف و ہراس، بوری بند لاشیں افراتفری کا عالم ہوتا تھا ایک منٹ میں پورا شہر بند ہو جاتا تھا۔ بھتا خوری، لوٹ مار عروج پر تھی پھر نواز شریف کے دور حکومت میں وفاقی وزارت داخلہ کی نگرانی میں سیکورٹی فورسز کی طویل جدوجہد کے بعد کراچی شہر کی امن و امان کی صورت حال کافی بہتر ہو گئی اور آج دنیا میں اسے ایک محفوظ شہر تصور کیا جاتا ہے۔ امن کے بعد دوسرا مرحلہ شہر کی ترقی کا ہونا چاہیے تھا جو کہ بد قسمتی سے پورا نہ ہو سکا اگر کراچی کے مسائل دیکھیں جائیں تو شہر کراچی میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں پر مکمل ضروریات زندگی موجود ہوں، اگر کسی علاقے میں صاف پانی دستیاب ہے تو پبلک ٹرانسپورٹ کا خستہ حال ہے اگر پبلک ٹرانسپورٹ موجود ہے تو وہاں قبضہ مافیا بھی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے، اگر کہیں پلاننگ نظر آ رہی ہے تو وہاں غیر فعال تعلیمی انفرا اسٹرکچر بھی موجود ہے ہر طرف بدحالی اور مسائل کے انبار ہیں پچھلے تیس سال سے کراچی شہر کو کبھی بھی رحم کی نظر سے نہیں دیکھا گیا وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ اور تمام سیاسی پارٹیوں کے ایم این اے، ایم پی اے اور لیڈران کو کراچی پر اپنی اپنی پارٹی کے لیے سیاست کرنا خوب آتی ہے، اگر ان کی گفتگو کا ریکارڈ نکال کر دیکھا جائے تو ایسے لگتا ہے جیسے کراچی کے سب مسائل کا حل تلاش کرنے کا واحد فارمولا اسی گفتگو کرنے والے شخص کے پاس ہے لیکن سب کے سب صرف اپنی باتوں کی حد تک چمپئن ہیں اور سب کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے کراچی کے عوام نے تمام پارٹیوں کے وعدوں سے تنگ آکر 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کو بھر پور ووٹ دیا اور شہر قائد سے20 میں سے 14 ایم این اے اور 24 ایم پی اے ابھر کر سامنے آئے لیکن سامنے آنے کے بعد ایسے غائب ہوئے کہ عوام کے بھر پور تلاش کرنے کے باوجود بھی نظر نہیں آتے، یقینا عوام اس لیے نام نہاد لیڈران کو تلاش کرتے ہیں تاکہ ان کی پارٹی کے وعدے یاد دلائے جائیں اُن کو یاد کروایا جائے کہ شاید مرکز میں بھی آپ ہی کی حکومت ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی حکومت کو تقریباً تین سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن کراچی کی خستہ حالی کی فکر کیے بغیر ٹنا ٹن اسپیڈ سے شاہانہ انداز میں حکمرانوں کا نظام زندگی
چل رہا ہے حکمرانوں کو فکر تو اُس وقت ہوتی، جب اُن میں سے کسی ایک کا گھر منگھو پیر میں ہوتا اور اس کو براستہ بنارس منگھو پیر جانا پڑتا، گورنر کو کراچی کی فکر اُس وقت ہوتی جب تین دن بارش رکنے کے بعد کورنگی سے انڈس لانڈھی تک جانا پڑتا، وزیر اعلیٰ کو فکر تب ہوتی جب اُسے بائیک یا پبلک ٹرانسپورٹ پر سائٹ ایریا اور بلدیہ ٹاؤن میں جانا پڑتا، اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کو کراچی کی فکر تب ہو گی جب موٹر سائیکل پر بٹھا کر مندرجہ بالا علاقوں اور اس کے علاوہ اُن کھنڈرات کا منظر دکھایا جائے جو ترقیاتی کاموں کی بنا پر آج سے پانچ پانچ سال پہلے کھودے گئے ہیں اور عوام آج تک منصوبے مکمل ہونے کا انتظارکر رہی ہے لیکن ایسا ناممکن دکھائی دیتا ہے کیوں کہ حکمرانوں کی گزر گاہ صرف اور صرف شاہراہ فیصل ہے اور جب بھی اِن کا گزرنا ہوتا ہے تو شاہراہِ فیصل کی چمک دمک پورے شہر سے الگ تھلگ نظر آتی ہے ہر طرف سیکورٹی فورسز کا پہرہ ہوتا ہے ایک دن پہلے کے ایم سی سے لے کر کنٹونمنٹ بورڈ تک سارے ادارے حرکت میں ہوتے ہیں جس طرح شاہراہِ فیصل کے لیے سب ادارے دن رات ایک کر کے کام کرتے ہیں۔ ایک دفعہ وزیر اعلیٰ سندھ کی
گاڑی طارق روڈ پر اس لیے پھنس گئی کہ طارق روڈ پر اللہ والی چورنگی سے لے کر بہادر آباد تک دونوں طرف پارکنگ مافیا کا قبضہ ہے، بڑے صاحب کی گاڑی نکلوانے کے لیے ہر طرف ہارن، اور بڑے بڑے ہوٹرز کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں اگلے دو تین روز تک پارکنگ مافیا غائب رہا اور ٹریفک پولیس کا پہرہ سخت تھا لیکن چند دنوں کے بعد ہی دونوں طرف دور دور تک کاروں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ کاش! پورے کراچی شہر کے لیے ایسا کام ہوتا جیسے حکمران جماعت کے طرز زندگی کے لیے عمل در آمد ہوتا ہے تو آج کراچی دنیا کا جدید ترین شہر ہوتا۔ حکمرانوں کا یہ شکوہ بھی رہا ہے کہ کراچی کو جو فنڈز ملتے ہیں وہ اس کے مسائل کے مطابق کم ہیں۔ یقینا یہ شکوہ بھی درست ہے لیکن آخر سوال یہ ہے کہ جو فنڈز ملتے ہیں اُن کا صحیح استعمال ترقیاتی منصوبوں پر کیا جاتا ہے یا وہ بھی آدھے سے زیادہ کرپشن، نا اہلی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
کراچی کا حلیہ بگاڑنے میں سرکاری اداروں اور سیاسی جماعتوں کا کلیدی کردار رہا ہے، اس شہر کو اجاڑنے میں یہاں کے حکمرانوں اور دعویداروں کا ہاتھ ہے۔ لیڈر تو وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے دلوں کا حال سمجھ کر فوراً اس کا حل نکال لے، کراچی کے عوام تو احتجاج کر کر کے تھک چکے ہیں، آخر کراچی کے باسیوں کو مزید کتنا صبر کرنا ہو گا؟؟