وائرس کی واپسی؟

245

وائرس ایک بار پھر نئے رنگ رخ اور توانائی اور تازگی کے ساتھ لو ٹ آیا ہے اور اس بار وائرس کا نام ہی نہیں کام بھی مختلف ہے۔ اس بار یہ کیموفلاج اور حملے کی نئی ٹیکنیک کے ساتھ آدھمکا ہے۔ اس بار یہ کھانسی اور قے کی شکل میں ظاہر نہیں ہورہا ہے بلکہ خاموشی سے آکر انسان کے قوت مدافعت پر حملہ آور ہوتا ہے اور اس سے جوڑوں کی تکلیف، کمزوری بڑھ جاتی ہے اور بھوک مر جاتی ہے۔ اس بار یہ براہ راست نظام تنفس پر حملہ کرتا ہے اور سنبھلنے کا بہت کم موقع اور وقت دیتا ہے۔ افریقا میں کوویڈ کی ایک نئی اور زیادہ مہلک قسم کے نمودار ہونے کی خبروں نے مغربی میں خوف اور تشویش کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔ یورپی ملکوں نے ایک بار پھر اپنے اور غیر ملکی شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ دنیا کے لیے کورونا ایک روح فرسا یاد بن کر رہ گیا ہے۔ ہنستی کھیلتی دوڑتی بھاگتی زندگی کو اس نے پابندیوں کی جو زنجیر پہنائی ہے وہ دنیا کے پیروں میں اب بھی کھنک رہی ہے۔ کہیں کورونا کے بعد لاک ڈائون کے اثرات اور کہیں پابندیوں کی صورت میں اس زنجیر کے اثرات موجود ہیں۔ مغربی زندگی کے چمکدار مجسمے کو اس وائرس نے ماتمی سیاہ قبا میں لپیٹ ڈالا تھا۔ سیر گاہیں اور تفریحی مراکز ویران ہو کر رہ گئے تھے۔ جن مراکز میں راتوں کو رنگ ونور کی برسات ہوتی تھی ان میں دن کو بھی جانے سے ڈر لگتا تھا یوں لگتا تھا کہ کوئی طوفان آکر گزر گیا ہے۔ وائرس نے چین سے اٹلی کی جست بھری تو دردناک مناظر سامنے آتے گئے۔ لاشوں کے انبار اور کھانس کھانس کر تڑپنے والے ہجوم اور تڑپ تڑپ کو کھانسنے والے جھتے دنیا کو ہلا ڈالنے کا باعث بنے تھے۔
یہ یادیں ابھی ذہنوں سے محو بھی نہیں ہوئی تھیں کہ نئی آفت نئے رنگ وآہنگ کے ساتھ آن پڑی۔ سائنس دانوں نے کوویڈ کی نئی قسم کے مقابلے اور تدارک کے لیے سر جوڑ لیے ہیں اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید نے کہا ہے کہ یہ نئی قسم ڈیلٹا سے زیادہ متعدی ہو سکتی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے ویکسین کم اثر پزیر ہوگی۔ ہمیں جلد از جلد کارروائی کرناہوگی۔ جرمنی کے وزیر صحت نے بھی کہا ہے کہ اس نئی شکل سے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ کوویڈ کی اس نئی شکل کو اومی کرون یا بی ون ون فائیو کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے وائرس کی آمد کے ساتھ ہی ایشیا، یورپ اور امریکا وبھارت سمیت اسٹاک مارکیٹس میں مندی ہونے لگی۔ یورپی ملکوں نے افریقی ممالک سے فضائی پروازوں پر پابندی عائد کردی۔ جن میں جنوبی افریقا، بوتسوانا، ایسوا ٹینی، موزمبیق، زمبابوے، لیسوتھو شامل ہیں۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ جنوبی افریقا میں وائرس کی اس نئی شکل سے ایسا خطرہ پیدا ہوگیا ہے یہ پوری دنیا میں پھیل جائے گا اور یوں پوری دنیا میں لاک ڈائون ہو سکتا ہے۔ ماضی میں لگوائی جانے والی ویکسین قوت مدافعت کام نہیں آئے گی۔ ایسا ہوا تو سنگین مسئلہ پیدا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق کورونا اپنی شکلیں تبدیل کر رہا ہے اور اس بار یہ زیادہ طاقت کے ساتھ سامنے آرہا ہے۔ کوویڈ نائنٹین نے پوری دنیا میں پانچ ملین افراد کی جان لی تھی اور دنیا بھر کی معیشتوں کو پہنچے والا نقصان اس سے سوا تھا۔ کوویڈ نائنٹین نے دنیا کی طاقتور معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اب بھی دنیا کی معیشتیں اب بھی اس جھٹکے سے پوری طرح سنبھلنے نہیں پائیں۔ اب دنیا نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ جنوبی افریقا میں کوویڈ کی نئی شکل وصورت زیادہ خوں خوار ہو کر سامنے آئی۔ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بج اُٹھی ہیں۔
وائرس کی اس نئی شکل کے مقابلے کے لیے نئے ایس او پیز ابھی تک پوری طرح سامنے نہیں آئے۔ جو صورت بھی ہو عوام کو ایک بار پھر حکومتوں کی ہدایات کا انتظار کرنا ہوگا اور ان ہدایات پر پوری طرح عمل کرنا ہوگا۔ ماضی میں بھی کورونا کی تباہ کاریاں ان علاقوں اور معاشروں میں زیادہ رہیں جن میں عوام نے بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں۔ جن ملکوں نے احتیاط کا دامن پکڑ لیا وہاں نقصان کم سے کم رہا۔ ماہرین نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ کورونا اب انسانی زندگی کا جزو بن گیا ہے اس سے مکمل طور پر چھٹکارا اب ممکن نہیں ہوگا کیونکہ یہ وائرس شکلیں بدلتا رہے گا۔ اب یہ رائے درست ثابت ہو رہی ہے۔ جس خوف سے خدا خدا کرکے چھٹکارہ حاصل ہوا تھا وہ خوف نئے انداز سے واپس آرہا ہے۔ ابھی تو یہ مغربی ملکوں میں ہی نمودار ہورہا ہے مگر ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس کے پھیلائو میں زیادہ دیر نہیں لگتی کیونکہ انسانوں کی آمدو رفت جاری رہتی ہے اور اس کے ساتھ ہی وائرس کا سفر بھی جاری رہتا ہے۔ ماہرین اب بھی اس بات پر قائم ہیں اس وائرس کا مقابلہ بھی سماجی فاصلوں، ہاتھوں کی صفائی اور ماسک سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے پھیلائو کے ذرائع اور اسباب وہی ہیں جو ماضی قریب میں تھے۔ اس لیے غارت گر کا مقابلہ بھی انہی اصولوں پر ممکن ہے جنہیں اپنا کر ماضی میں جان چھڑائی گئی تھی۔