بلدیاتی ترمیم کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک

203

کراچی اور سندھ کے عوام کے حقوق کے لیے تیزی سے توانا ہونے والی آواز جماعت اسلامی اور اس کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی ہے۔ انہوں نے نادرا، واٹر بورڈ، کے الیکٹرک، بحریہ ٹائون، نسلہ ٹاور سمیت تمام معاملات میں متاثرین اور مظلوموں سے اظہار یکجہتی کیا ہے ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور ان کا مقدمہ لے کر ہر جگہ پہنچے ہیں۔ اب حکومت سندھ نے عددی اکثریت کی بنیاد پر مرکزی حکومت کی طرح اچانک سندھ بلدیاتی ترمیمی بل منظور کرا لیا۔ کراچی کے کئی محکموں سمیت صوبے بھر میں بلدیاتی اداروں کو حکومت کے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی ترمیم کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے اور اگر حکومت نے بل واپس نہ لیا تو سندھ اسمبلی کا گھیرائو بھی کیا جائے گا۔ حافظ نعیم نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل سندھ کے شہروں خصوصاً کراچی کے تین کروڑ عوام کو غلام بنانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے یہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش بھی مسترد کردی کہ یہ بل جماعت اسلامی کی تجاویز کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ حافظ نعیم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم نے تو تجویز دی تھی کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اس لیے آئین کے مطابق یہاں کارپوریشن نہیں با اختیار شہری حکومت ہونی چاہیے۔ اس شہر کو میگا سٹی اسٹیٹس ملنا چاہیے۔ لیکن صوبائی حکومت جس نے درجنوں شہری اداروں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے کر ان کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور اب مزید داروں کو کنٹرول میں لینا چاہتی ہے۔ ان میں صحت، تعلیم اور بلدیات سے متعلق اہم محکمے شامل ہیں۔ صحت کے نظام کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ بہت واضح ہے کہ حکومت سندھ کے عزائم عوام کی خدمت کے نہیں ہیں بلکہ عوام کے وسائل کو ٹھکانے لگانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ حافظ نعیم نے توجہ دلائی کہ حکومت سندھ نے شہری اور دیہی آبادیوں میں یونین کمیٹیاں بنانے کے پیمانے بھی الگ الگ رکھے ہیں۔ تاکہ شہروں خصوصاً کراچی میں یونین کمیٹیز کی تعداد کم ہو جائے۔ ایسے اقدامات سے نفرتیں بڑھتی ہیں حکومت کا کام عوام کو یکجا کرنا ہوتا ہے ان میں تفرقہ ڈالنا نہیں۔ حافظ نعیم نے کراچی میں ہر قسم کی غیر قانونی تعمیرات کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان تعمیرات میں ملوث تمام افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ حافظ نعیم نے کراچی کے ہر طبقہ ٔ فکر کے لوگوں کو آواز دی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آگے بڑھیں۔ کراچی سمیت صوبے کے درجنوں مسائل کے لیے حافظ نعیم اور جماعت اسلامی کراچی نے جرأت مندی سے آواز اٹھائی ہے۔ عدالت عظمیٰ میں نسلہ ٹاور کے متاثرین کے لیے نہایت حکمت اور جرأت کے ساتھ بات پہنچائی ہے۔ اب دوسری سیاسی جماعتیں یا اس خرابی کا سبب بننے والے لوگ چیمپئن بننے کی کوشش کریں تو اسے عوام ہی ناکام بنا سکتے ہیں۔ وہ جماعت اسلامی کے مظاہروں اور دھرنوں میں شریک ہوں اور یہ یقین جانیں کہ یہ جماعت اسلامی کے مظاہرے نہیں یہ عوام کے حقوق کے لیے ان کے اپنے مظاہرے ہیں۔