سندھ بلدیاتی ایکٹ کومسترد کرتے ہیں، حسین محنتی

162

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021ء کو آئین سے متصادم اور مفاد عامہ کے برعکس قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو مالی وانتظامی طورپر بااختیار بنایا جائے۔سندھ حکومت کے اس کالے قانون، آئین شکن اور عوامی دشمن فیصلے کے خلاف جماعت اسلامی بھرپور تحریک چلائے گی۔اس حوالے سے پہلے مرحلے میں جمعہ 3 دسمبر کوسندھ بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا جبکہ 12 دسمبر کو کراچی میں عوامی مارچ کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ آئین کی شق نمبر-A 140میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ لوکل گورنمنٹ بنانے کا مقصد منتخب نمائندوں کو سیاسی ،انتظامی اور مالی طور اختیارات منتقل کرنا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میںملک کی تعمیر وترقی اورعوام کی خوشحالی کا دارو مدار بلدیاتی اداروں کی سہولیات کی بہتر انداز میں فراہمی پرمنحصر ہے،مگربدقسمتی سے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021ء میں پیدائش،فوتگی سرٹیفکیٹ ،بنیادی صحت کے مراکز، بڑے اسپتال، ہیلتھ ڈسپینسری، فرسٹ اینڈ میڈیکل ایڈ،پرائمری تعلیم اور ویکسینیشن ،بیسک ہیلتھ سینٹر کے اختیارات تک چھین لیے گئے ہیںجبکہ واسا،عباسی اسپتال،کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج بھی سندھ حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے قیادت کی تیاری اورمخلص لوگوں کوعوام کی خدمت کا موقع ملتا ہے مگرجمہوریت کے دعویدار حکمرانوں کا بلدیاتی اداروں کے آئینی اختیارات سلب کرکے بیوروکریسی کے حوالے کرنا عوامی حقوق پر بھی ڈاکا مارنے کے مترادف ہے۔جس سے کرپشن کے نئے دروازے کھلنے کے خدشات ہیں۔ صوبائی امیر نے کہاکہ ملک کی تعمیر وترقی اورعوام کے حقوق کے لیے جماعت اسلامی میدان عمل میں کھڑی رہے گی۔صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا،ضلعی امیرعقیل احمدخان ودیگر مقامی ذمے داران بھی اس موقع پرموجود تھے۔