گوانتانامو جیل سے 20 سال بعد رہا ہونے والا یمنی اگلے دن ہی لاپتہ

177

20 سال کی اذیت اور غیر معینہ اور من مانی حراست کے بعد، گوانتانامو کے سابق یمنی قیدی عبدالقادر المدفری کو تمام الزامات سے بری قرار دیا گیا اور یمن واپس بھیجنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی جیل میں منتقل کیا گیا لیکن ان کی یہ آزادی دیر پا نہیں تھی۔ یہ تحریر ان کے اعزاز میں ہے۔

عبدالقادر المدفری میڈیکل کے طالب علم تھے جنہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے 2001 میں پاکستان کا سفر کیا۔ انہیں 9/11 کے حملوں کے بعد پاکستانی ریاست نے امریکا کے حوالے کر دیا۔

امریکی قیدیوں کی طرح انہیں نارنجی رنگ کا جمپ سوٹ پہنایا گیا، بیڑیوں سے باندھا گیا، آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور بدنامِ زمانہ گوانتاناموبے جیل لے جایا گیا جہاں وہ 14 سال تک بغیر کسی مقدمے کے انتہائی ذہنی و جسمانی اذیت اور تشدد برداشت کرتے رہے۔

2016 میں، المدفری کو 17 یمنیوں، تین افغانیوں اور ایک روسی کے ساتھ، امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کے درمیان دوبارہ آبادکاری کے معاہدے کے تحت امارات منتقل کیا گیا، جس نے ان قیدیوں کو نئی ​​زندگی دینے کا وعدہ کیا۔

ان لوگوں نے سوچا کہ ان کی آزمائش ختم ہو گئی ہے اور ان کے وکلاء نے بھی انہیں یقین دلایا۔

تاہم جیسے ہی وہ امارات کی زمیں پر اترے اماراتی فورسز نے انھیں پکڑ لیا اور ان کو مزید پانچ سال کیلئے متحدہ عرب امارات کی جیل میں بدسلوکی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس بار نہ تو ان کے وکلاء اور نہ ہی انسانی حقوق کی کسی تنظیم کو ان سے ملنے یا بات چیت کرنے کی اجازت دی گئی۔

متحدہ عرب امارات کی جیل میں طویل عرصے تک قید تنہائی اور اذیت کی وجہ سے المدفری کی ذہنی صحت خراب ہوگئی۔ ان کے بھائی امین نے بتایا، “2017 کے بعد سے ہمارا اس سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ جب وہ گوانتانامو میں تھا تو ہم اسے فون کرتے تھے اور وہ ذہنی طور پر ٹھیک لگتا تھا۔ لیکن پھر اچانک خاموشی ہوگئی۔”

گزشتہ ماہ عبدالقادر کی رہائی اچانک ہوئی۔ یہ انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء یا اہلخانہ کے ساتھ کسی بھی پیشگی رابطے کے بغیر ہوئی۔

“ہمیں ایک پیغام ملا کہ ہم اپنے بھائی کو لینے کے لیے حضرموت آجائیں،” امین (بھائی) نے بتایا۔ “جب ہم وہاں پہنچے تو عبدالقادر ہم میں سے کسی کو نہیں پہچان پارہا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے خاندان پر اماراتی سیکورٹی اہلکار ہونے کا الزام بھی لگایا۔ اس نے ہمارے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ ہم اسے 5 دن تک قائل کرتے رہے لیکن معاملہ مزید خراب ہوتا گیا۔ آخر کار جبراً انہیں صنعاء میں لایا گیا۔ آمد کے اگلے دن، 11 نومبر 2021 کو عبدالقادر نے باہر چہل قدمی پر اصرار کیا۔ اور باہر نکل کر وہ غائب ہوگیا۔ یپولیس کا دعویٰ ہے کہ اسے حوثیوں نے اغوا کیا ہے۔