بھارت، لوک سبھا اجلاس میں ہنگامہ، اپوزیشن ارکان کی معطلی و کسان حقوق کے لیے احتجاج   

172

بھارت کے لوک سبھا اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ نے کسانوں کے احتجاج میں جان گنوانے والے کسانوں کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے اور کم از کم امدادی قیمت(ایم ایس پی)پر قانون بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی، کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، بائیں بازو، انڈین یونین مسلم لیگ، عام آدمی پارٹی کے ارکان نے اپوزیشن کے 12 ارکان اسمبلی کی معطلی کے معاملے پر راجیہ سبھا میں احتجاجا واک آوٹ کیا، پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا ہے کہ معطلی واپس لینے پر ارکان پارلیمنٹ کو معافی مانگنی ہوگی۔ 

منگل کو بھارت کی  لوک سبھا کی کارروائی صبح 11 بجے شروع ہوئی تو ارکان پارلیمنٹ نے کسانوں کے احتجاج میں جان گنوانے والے کسانوں کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے اور کم از کم امدادی قیمت(ایم ایس پی)پر قانون بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے تقریبا چھ ارکان بھی نشست کے سامنے آئے اور پلے کارڈز کے ساتھ نعرے بازی کرتے رہے۔ اسپیکر نے ان سے اپنی نشست پر جانے کی درخواست کی لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

وقفہ سوالات کا آغاز کرتے ہوئے اسپیکر نے بی جے پی کے کنور پشپندر سنگھ چندیل کو سوال پوچھنے کے لیے پکارا۔ دریں اثنا کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، بائیں بازو، انڈین یونین مسلم لیگ، عام آدمی پارٹی کے ارکان نے اپوزیشن کے 12 ارکان اسمبلی کی معطلی کے معاملے پر راجیہ سبھا میں احتجاجا واک آوٹ کیا جس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی۔ در ایں اثنا پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا ہے کہ معطلی واپس لینے پر ارکان پارلیمنٹ کو معافی مانگنی ہوگی۔ دوسری جانب پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں اپوزیشن کے 12 ارکان کی معطلی کے معاملے پر آگے کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے 16 اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے  میٹنگ کی۔

راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے کے پارلیمنٹ واقع آفس میں میٹنگ ہوئی جس میں ان لیڈروں نے کہا کہ ایوان میں ایسا کچھ نہیں ہوا جس کی وجہ سے اپوزیشن کے ممبران پارلیمنٹ کو پورے سرمائی اجلاس کے لیے معطل کر دیا جائے۔ اس میٹنگ میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ کئی اہم لیڈروں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں کانگریس، شیوسینا، این سی پی، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، آر جے ڈی، نیشنل کانفرنس سمیت 16 پارٹیوں کے لیڈروں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں ترنمول لیڈروں نے شرکت نہیں کی۔