کیا بیان حلفی رپورٹ ہوا نہیں معلوم، سابق جج رانا شمیم کی اسٹیٹمنٹ نے نئے سوال کھڑے کردیے

176

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان اور دیگر کیخلاف توہین عدالت کیس میں رانا شمیم سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے سابق جج رانا شمیم کو اصل بیان حلفی بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکیورٹ نے سابق چیف جج رانا شمیم اور دیگر کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا آپ بیان حلفی کے مندرجات کو تسلیم کرتے ہیں جس پر سابق چیف جج رانا شمیم نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم جو بیان حلفی رپورٹ ہوا، وہ کونسا ہے میرا بیان حلفی سیل شدہ اور لاکر میں ہے، مجھے جواب جمع کرانے کیلئے 2 ہفتے کا وقت دیا جائے۔

عدالت نے رانا شمیم کو 7 دسمبر تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آج کل عدلیہ کی توہین اور متنازعہ بنانے کا سیزن ہے، جس شخص نے بیان حلفی دیا اسے یاد نہیں کہ بیان حلفی میں کیا لکھا ہے، اگر انہیں نہیں معلوم تو پھر یہ بیان حلفی کس نے تیار کرایا ایک شخص لندن جا کر بیان حلفی لکھواتا ہے اور بھول کیسے جاتاہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ رانا شمیم اصل بیان حلفی کے ساتھ تحریری جواب داخل کریں، رانا صاحب کی آج کی اسٹیٹمنٹ بہت خطرناک ہے، سیاسی بیانیے کیلئے عدالت کو استعمال نہیں کرنا چاہیئے، اصل بیان حلفی مختلف ہوا تو اخبار پر بڑا سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔