اسرائیلی عدالت نےفلسطینیوں کے گھر گرانے کی اجازت دیدی

206

مقبوضہ بیت المقدس:اسرائیلی عدالت نے مقبوضہ بیت المقدس کی سلوان میونسپلٹی میں واقع وادی یاصول کالونی کے 58 مکانات کو فوری طور پر مسمار کرنے کا گرین سنگل دےدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی عدالت نے یاصول کے باشندوں کی جانب سے اپنے گھر مسمار کرنے کے اسرائیلی فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل سننے سے انکار کر دیا تھا۔صہیونی عدالت کے فیصلے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس کی سلوان بلدیہ جب چاہے فلسطینیوں کے 58 مکانات گرا سکتی ہے، کالونی میں کل 84 ایسے مکانات ہیں جنہیں یہودیوں کےلئے آباد کاری کے توسیعی منصوبے کی وجہ سے گرائے جانے کے خطرات لاحق ہیں۔

مکانات گرانے جانے کی صورت میں مقبوضہ بیت المقدس کے 600 رہائشی جن میں سینکڑوں بچے، معذور، بزرگ اور مریض شامل ہیں، در بدری کا شکار ہو جائیں گے،سلوان کے جنوب مغرب میں واقع وادی یاصول کالونی کا رقبہ 310 ایکڑ پر محیط جہاں 1050 مقدسی شہری آباد ہیں۔کالونی کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ خالد شویکی کا کہنا تھا کہ ہم بیک زبان ہو کر مکانات گرانے سے متعلق اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، ہم کسی کو کالونی کا ایک پتھر اور درخت بھی اکھاڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کاکہناتھاکہ اسرائیل ہماری پوری کالونی گرا کراس کی جگہ یہودی آبادکاروں کی تفریح کےلئے ”امن جنگل“ بنانا چاہتا ہے، ہم اپنے وجود کو مٹا کر ایسا کچھ تعمیر نہیں کرنے دیں گے۔