چین اور تائیوان میں کشیدگی عروج پر

177
تائیوان: وزیردفاع چیو کیو چینگ ذرائع ابلاغ کے نمایندوں سے گفتگو کررہے ہیں

 

تائی پے سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے مبینہ تائیوان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ تائیوان کے وزیردفاع چیو کیو چینگ نے خبردار کیا کہ چینی فضائیہ نے فوجی مشقوں کے بہانے کسی قسم کی جارحیت کی تو ہم بھرپور جواب دیں گے۔ تائیوان کے وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ 27 چینی لڑاکا طیارے فوجی مشقوں کے نام پر ہماری فضائی حدود میں داخل ہوئے، جس پر فوج کو تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ چین ان حربوں کے ذریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے، تاہم تائیوان کی فضائیہ نے بھی بتا دیا ہے کہ جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کے 18 لڑاکا اور 5 جوہری صلاحیت کے حامل ایچ 6 بمبار طیاروں نے تائیوان کی فضائی دفاعی شناختی زون اے ڈی آئی زیڈ کے انتہائی قریب فوجی مشقیں کی تھیں، جن میں مجموعی طور پر 27 طیارے شامل تھے۔ سرحدوں پر بڑھتی کشیدگی اور جنگ کے خطرات سے پارلیمان کو آگاہ کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ان کی فوج چین کی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم نے چینی طیاروں کو خبردار کرنے کے لیے جنگی طیارے بھی بھیجے اور دفاعی فضاعی نظام بھی تعینات کردیا۔ چین فوجی مشقوں کے ذریعے دباؤ میں لانا چاہتا ہے،جس میں وہ ناکام ہوگا۔ وزیر دفاع نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ لڑاکا اور بمبار طیاروں سمیت چین کے 27 طیاروں نے اتوار کے روز تائیوان کے جنوب مغربی پانیوں کی فضا میں پرواز کی تھی۔نصف سے زائد طیارے تائیوان کے جنوب مشرقی علاقوں میں گئے اور چین کی طرف واپس لوٹنے سے پہلے تائیوان اور فلپائن کے درمیان واقع آبی گزرگاہ باشی کے اوپر سے گزرے۔ فضا سے ایندھن بھرنے والا ٹینکر وائی20 بھی اس بیڑے میں شامل تھا۔ وائی20 کی ایندھن بھرنے کی گنجایش چینی فوج کے روایتی ٹینکروں سے 3گنا زیادہ ہے۔