ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات بحال

180
ویانا: جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں

 

 

ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریا کے شہر ویانا میں 2015ء کے عالمی جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق تعطل کا شکار مذکرات 5ماہ بعد بحال ہوگئے۔ جون میں مذاکرات موقوف ہونے کے وقت سفارت کاروں نے کہا تھا کہ وہ ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 5ماہ کے تعطل اور ایران میں حکومت تبدیل ہونے کے باعث ویانا میں ہونے والی سابقہ بات چیت سبوتاژ ہوسکتی ہے۔ اس موقع پر ایران کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے یہ بات ویانا میں شروع ہونے والے جوہری مذاکرات کے تناظر میں کہی گئی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے صحافیوں سے کہا کہ ایرانی وفد ویانا مذاکرات میں اس عزم کے ساتھ شریک ہو رہا ہے تاکہ بامقصد گفتگو کے ذریعے جوہری معاہدے کو بچایا جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ویانا میں ہونے والے جوہری مذاکرات کے ضمن میں امریکی وفد کے ساتھ براہ راست بات چیت ہر گز نہیں کرے گا۔ سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ تہران حکومت اب بھی امریکی پابندیوں کے خاتمے کے مطالبے پر قائم ہے۔ یاد رہے کہ ایران اور اہم عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 ء کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ہونے والی بات چیت جون میں تعطل کا شکار ہو گئی تھی۔ ایران میں ابراہیم رئیسی کے عہدہ صدارت پر فائز ہونے کے بعد بات چیت کا ماحول بھی بدل گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جون میں آخری دور کی بات مثبت ماحول میں ختم ہوئی تھی، لیکن گزشتہ کئی ماہ سے ایران مغربی ممالک کی اپیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں اور جوہری پروگرام کو مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔