متفقہ قومی قانون سازی

254

قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اْس وقت بلایا جاتا ہے جب حکومت کو خدشہ ہو کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان (قومی اسمبلی اور سینیٹ) اْن کی مجوزہ قانون سازی منظور نہ ہو سکے گی۔ الیکٹرونک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے انتخابی اصلاحات کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 کے ترمیمی بل کے حوالے سے بھی ایسا ہی ہوا۔ تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کو قومی اسمبلی میں اور متحدہ اپوزیشن کو سینیٹ میں اکثریت حاصل ہے۔ حکومت کو یقین تھا کہ پارلیمنٹ میں صرف 2 ووٹوں کی برتری کے باوجود وہ اپوزیشن کے کچھ ارکان کو غیر حاضر رکھنے میں کامیاب ہوجائے گی، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 11 نومبر 2021ء کو طلب کر لیا گیا۔ مگر جب حکومت کے اتحادی بِدکنے لگے تو حکومت نے ایک روز قبل مشترکہ اجلاس یہ کہہ کر ملتوی کردیا کہ حکومت اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اپوزیشن سے مذاکرات کرے گی۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔ حکومت نے انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کے ساتھ بامعنی مذاکرات اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے بجائے اپنے اْن اتحادیوں کو شیشہ میں اْتارلیا جو پہلے ہی بھتا خوری، آٹا، چینی، پٹرول، ادویات کے بحرانوں کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
حکومت نے پارلیمنٹ کا ملتوی شدہ اجلاس دوبارہ طلب کیا اور 17نومبر 2021ء پاکستان کی جمہوری تاریخ کا وہ بدترین دن تھا جب ساڑھے تین گھنٹوں میں 33 قانون منظور کرلیے گئے۔ ہر بل کو منظور ہونے میں اوسطاً ساڑھے چھے منٹ لگے۔ صدر پلڈاٹ احمد بلال محبوب کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے منظور ہونے سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی نے تین سال تک 100 سے زائد اجلاس منعقد کیے، یہاں تک کہ اْس وقت کی اپوزیشن جماعت (پی ٹی آئی) کے ارکان جب اجلاس میں نہ آتے تو اجلاس قومی اتفاق رائے کی خاطر مؤخر کردیا جاتا۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکومت کے 221 اور اپوزیشن کے 219 ارکان ہیں۔ فرق صرف 2ارکان کا ہے۔ حکومت کی جانب سے مذکورہ اہم قانون سازی کے وقت پارلیمنٹ میں قوم کے 203 نمائندوں کی بات نہ سْن کر یعنی تقریباً نصف مینڈیٹ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ افغانستان میں تمام گروہوں پر مشتمل متفقہ قومی حکومت (Inclusive Government) کا مطالبہ کرنے والے وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں متفقہ قومی قانون سازی (Inclusive legislation) نہ ہونے دی اور قومی اتفاقِ رائے کو واضح طور پر (معمولی برتری کے ساتھ) دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ کیسا حسنِ اتفاق ہے کہ جب بھی قومی اسمبلی، سینیٹ یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کوئی اہم قانون سازی یا فیصلہ ہونے جاتا ہے تو پورے 16 ارکان غائب کردیے جاتے ہیں اور جو شریک بھی ہوتے ہیں اْن کو جبراً ایوان میں لاکر اپنے حق میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کو اپنے ضمیر کے مطابق کْھل کر بات کرنے نہیں دی جاتی۔ طْرفہ تماشا دیکھیے کہ 12 کروڑ ووٹ الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں پر شمار کروانے کی متمنی حکومت آئی ووٹنگ کے ذریعے یا فرداً فرداً پارلیمنٹ کے 424 ووٹ شمار نہ کروا سکی اور ارکان کی آوازیں سْن کر اسپیکر قومی اسمبلی کو پتا چل جاتا ہے کہ 221 آوازیں ’’ہاں‘‘ اور 203 آوازیں ’’ناں‘‘ کی ہیں۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ پارلیمنٹ میں ارکان کا شمار بھی متنازع ہوجائے۔ سْنا تھا کہ: ’’جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں، بندوں کو گِنا کرتے ہیں تولا نہیںکرتے‘‘، اِس ہائبرڈ جمہوریت میں تو بندوں کا شمار بھی نہیں کیا جاتا۔ وقت آگیا ہے کہ ٹیکس دینے والے ووٹرز اربابِ حل و عقد سے پوچھیں کہ کون کون سا رکنِ پارلیمنٹ ’’ہاں‘‘ اور کون کون سا ’’ناں‘‘ میں ووٹ دیتا ہے۔ اور وہ کون سے ارکانِ پارلیمنٹ ہیں جو قوم کی تقدیر کے فیصلوں کے وقت غائب رہتے ہیں یا غائب کردیے جاتے ہیں اپوزیشن سے بھی اب ووٹرز پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ دباؤ اور لالچ کے شکار لوگ کب تک اْن کی صفوں میں چْھپے رہیں گے؟ اور اْن کو عوام کے سامنے کب بے نقاب کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون سازی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ باب ہے جس کا کوئی جواز نہیں گڑھا جا سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ انتخابات 2023ء الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے ذریعے کیسے ہوں گے؟
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 18 نومبر 2021ء کو ہی عندیہ دے دیا ہے کہ انتخابات 2023ء الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر نہیں ہوسکیں گے۔ اگر حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات کو نظر انداز کرکے 300 ارب روپے مالیت کی الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں خرید بھی لیں اور وہ RTS کی طرح عین انتخابات کے موقع پر جام ہوگئیں یا کردی گئیں یا اْن میں ’’وائرس‘‘ پڑگیا یا بجلی چلی گئی یا کوئی اور فنی یا انتظامی خرابی پیدا ہوگئی توکیا ہوگا؟ اسی طرح اگر غیر تربیت یافتہ انتخابی عملے نے انتخابات کروائے اور وہ غیر معیاری ہوئے تو کیا ملک کی تاریخ کا عظیم غدر نہیں ہوگا۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں آئینِ پاکستان کے تقاضے کے مطابق ووٹ کی رازداری کو کیسے برقرار رکھا جائے گا جبکہ ڈیجیٹل پولنگ کا سارا کنٹرول اْسی حکومتی مشینری کے پاس ہوگا جس کے پاس آر ٹی ایس (RTS) کا تھا؟ اگر حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹ کی رازداری برقرار رکھنے کی ضمانت نہ دی تو یہ سوال اْٹھے گا کہ مخصوص قانون بالا دست ہے یا عوام کاحقِ خود ارادیت اور ووٹ کی رازداری؟ ایسی صورت میں اگلے عام انتخابات نہ صرف متنازع ہوں گے بلکہ غیر آئینی اور جمہوریت کے بنیادی اْصولوں کے منافی بھی تصور ہوں گے۔
رائے عامہ کے تجزیوں میںملک کے اندر ہوش رْبا مہنگائی اور بدترین حکمرانی کی وجہ سے پی ٹی آئی حکومت غیر مقبول ہو رہی ہے اس لیے اْس نے اِس مفروضہ پرکہ وہ اب بھی بیرون ملک بہت مقبول ہے اور سمندر پار پاکستانی اْس کے جھانسے میں آسکتے ہیں، سمندر پارپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ کیا لیکن وہ یہ بتانا بھول گئے کہ اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حصول کے لیے دوسرے ملکوں میں سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کیسے چلائیں گی؟ دوسرے ممالک میں سیاسی رہنماؤں کو ووٹرز تک یکساں رسائی کا بندوبست کیسے ہو گا؟ پولنگ اور ووٹرز پر عالمی قوتوں اور پیسہ کے اثر کو کیسے روکا جائیگا؟ بیرون ملک ووٹوں کی خرید و فروخت کو کیسے روکا جائے گا؟ ایف بی آر سمیت اہم قومی اداروں پر سائبر حملوں کے بعد اگر انٹرنیٹ پولنگ پر بھی سائبر حملے ہوئے تو حکومت اس کا تدارک اور ازالہ کیسے کرے گی؟
انتخابی اصلاحات خصوصاً الیکٹرونک انتخابات اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت دینے کے لیے قانون سازی سے پہلے ضروری تھا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز اور ٹیکنالوجی کے ماہرین سے مشاورت کرتی اور ایک ایسا فول پروف انتظام کیا جاتا جس میں ووٹ کا تقدس، تحفظ اور رازداری یقینی ہوتی۔ الیکٹرونک ووٹنگ کو مرحلہ وار نافذکیا جاتا۔ پہلے آزمائشی پولنگ (Pre testing) کی جاتی اور نقائص کو دْور کیا جاتا۔ پھر اس نظام کو پورے ملک میں لاگو کیا جاتا۔
ویسے بھی کوئی مقابلہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تمام فریق مقابلے کے قواعد و ضوابط پر متفق نہ ہو جائیں اور یہ بات کپتان عمران خان سے زیادہ کون جانتا ہے جن کے اپنے دعویٰ کے مطابق کھیلوں میں وہ تین مرتبہ پی ایچ ڈی ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے حریفوں پر امپائر سے مل کر کھیلنے کا الزام لگاتے رہے ہیں مگر جس طرح اْن کی حکومت نے پارلیمنٹ کو بلڈوز کیا ہے اْس سے جمہوریت اور جمہوری نظام خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ عمران خان اور ایک صفحے کے مکین (One Pagers) انتخابی نظام کے تمام اسٹیک ہولڈرز سیاسی جماعتوں، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اہل الرائے (Intelligentia)کے ساتھ مشاورت کریں اور سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پارلیمنٹ کا اجلاس دوبارہ بْلائیں اور 17 نومبر 2021ء کی متنازع قانون سازی پر نظر ثانی کریں۔ قومی اتفاق رائے سے جو انتخابی اصلاحات ہوں گی وہ ریاست، جمہوریت اور سیاسی نظام کی تقویت کا باعث ہوں گی۔