یوتھ ریلی۔ جدوجہد کا آغاز

202

 

جماعت اسلامی پاکستان نے ملک بھر کے نوجوانوں کو اسلام آباد میں جمع کیا ہے اور بیروزگار نوجوانوں کا مارچ کیا ہے۔ اس مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اس مارچ کو نوجوانوں کی جانب سے اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد کا نقطہ آغاز قرار دیا ہے۔ پاکستان کے نوجوان بیروزگاری، تعلیم کے اچھے مواقع اور خوشحالی کے سہانے خواب سجائے محنت کرکے جب تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو انہیں ایسے سنگین حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سب سے پہلے تو سفارش کلچر سے ان کی عملی ملاقات ہوتی ہے۔ انہیں پھر پتا چلتا ہے کہ ان کے ٹیلنٹ کی قدر نہیں سفارش چلتی ہے۔ اور اگر کسی ادارے میں وہ پہنچ جائیں تو کرپشن کا دریا نظر آتا ہے۔ اس بہتی گنگا سے ہاتھ نہ دھوئیں تو زندگی کی آسائشوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اور اگر سیاست میں آجائیں تو سیاستدانوں، بیوروکریس، ایجنسیوں اور طاقت کے مراکز کے اصل چہرے سامنے آجائیں۔ اور اگر کسی تنازعے میں انصاف حاصل کرنا چاہیں تو ان کو پتا چلے گا کہ انصاف کا حصول کس قدر مشکل ہے۔ جب یہ حالت ہو تو نوجوان ملک سے باہر بھاگتا ہے اور یہ سلسلہ برسہا برس سے چل رہا ہے۔ پاکستان کا باصلاحیت نوجوان ملک سے باہر گیا اور پھر پلٹ کر نہیں آتا۔ اِکا دُکا نے واپس ملک کی شکل دیکھی یا چند ایک ڈاکٹر قدیر جیسے ملک آکر ملک کی قسمت بدل گئے۔ لیکن مجموعی طور پر پیدائش سے لے کر موت تک اس ملک کے عوام کی زندگی مشکل ہے۔ جماعت اسلامی چونکہ ہر طبقہ فکر کے لیے جدوجہد کررہی ہے اور سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے اس لیے اس نے یوتھ کنونشن طلب کیا۔ اسلام آباد جیسے شہر میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد اس میں شریک ہوئی جہاں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ قوم پر مسلط حکمران اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں اور سامراج کے ایجنٹ ہیں۔ کہنے کو یہ ایک عام سی بات ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار سیاسی جماعتوں کے لیڈر بھی ایسی ہی باتیں کرتے ہیں لیکن یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانا اس کی پیدا کردہ رکاوٹوں کو عبور کرنا اور سامراج کے ایجنڈے سے لڑنا کوئی آسان کام نہیں جس کے قبضے میں سارا نظام ہے۔ سراج الحق نے اس موقع پر نہایت اہم بات کہی ہے کہ ادارے اگر چاہتے ہیں کہ ان پر انگلی نہ اٹھے تو وہ سیاست میں مداخلت نہ کریں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ایک عالمی ایجنڈا رکھنے والے حکمران اور ادارے کیوں کر درست راہ پر آئیں گے۔ یہ بات درست ہے کہ اداروں پر تنقید سے ملک کو بھی نقصان ہوتا ہے لیکن یہ سوچنا کس کا کام ہے، ادارے اپنے کام کے بجائے دوسرے کاموں میں اُلجھ جائیں تو یہی خرابی ہوگی جو نظر آرہی ہے۔ ملک میں تجربات کی بھرمار ہوچکی۔ سب سے زیادہ علما اور ملائوں کو بُرا بھلا کہا جاتا ہے جو 74 برس میں آج تک اقتدار میں نہیں رہے۔ ملک کو تباہ کیا تو اسلامی سوشلزم والے بھٹو نے، اسلامی نظام اور نظام مصطفی کا نعرہ اغوا کرنے والے جنرل ضیا الحق نے، روشن خیال بے نظیر نے، پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر بنانے کا دعویٰ کرنے والے نواز شریف نے اور سب سے پہلے پاکستان والے جنرل مشرف نے۔ اور اب پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان نے کیا ہے۔ ان ہی کے بارے میں سراج الحق صاحب نے کہا کہ عمران خان ملک کو 30 سال پیچھے لے گئے ہیں، ملک چلانا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب تک ملک میں جو تجربات کیے گئے اور ان تجربات میں مختلف نام استعمال ہوئے ان میں سے کسی کے بس میںملک چلانا نہیں تھا اور ان کو لانے والوں کے بس میں بھی ایسا نہیں ہے۔ یہ بس تجربات کرتے رہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ریکارڈ پر ایسے ارکان اسمبلی بھی ہیں جن کی بدولت ملک میں آئین بنانا آسان ہوگیا۔ اور ایسے لوگ بھی ہیں جو دو مرتبہ میئر رہے اور رکن قومی اسمبلی رہنے کے باوجود 80 گز کے فلیٹ میں ہی رہے اور جنازہ بھی وہیں سے اُٹھا۔ صوبہ سرحد کے وزیر خزانہ کے طور پر سراج الحق کی کارکردگی بھی ریکارڈ پر ہے اور کراچی میں نعمت اللہ خان کے دور میں شہر کی ترقی بھی ایک ریکارڈ ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ اور ادارے ایسے لوگوں کو مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے اشاروں پر ناچیں۔ یہ سارا کھیل صرف ملک کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے سراج الحق صاحب نے اداروں کو متوجہ کیا ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان پر انگلی نہ اُٹھے تو وہ سیاست میں مداخلت نہ کریں۔ جماعت اسلامی نے نوجوانوں کو جمع کیا اور ان میں آگاہی پیدا کی ہے۔ جماعت اسلامی، علما، مدارس، خواتین، مزدور، تاجر، اساتذہ سمیت ہر شعبے کے لوگوں کو متحرک اور متوجہ کررہی ہے۔ اگر یہ سب مل کر آنکھوں سے پٹیاں ہٹا کر دیکھیں جو کہیں میڈیا نے ان کی آنکھوں پر باندھ رکھی ہیں تو کہیں علاقائی اور پارٹی تعصب یا فرقہ پرستی نے باندھ رکھی ہیں، تو ان کو نظر آئے گا کہ پاکستان کے عوام کے مسائل صرف ایک جماعت حل کرسکتی ہے اور وہ جماعت اسلامی ہے۔ نوجوانوں کو بڑی تعداد میں اسلام آباد میں جمع کرنا اور یوتھ ریلی منعقد کرنا ایک اہم قدم ہے۔ جماعت اسلامی کو اللہ اس کے مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے۔