اسلامو فوبیا ختم کرنے کا آغاز اسلامی دنیا کرے

159

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم کے 15ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کر مل کو اسلامو فوبیا کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ شمالی امریکہ اور جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیل رہی ہے۔ صدر مملکت نے افغانستان میں پائیدار امن کو خطے میں تجارت اور معاشی مواقع پیدا کرنے کا سبب قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کئے جائیں۔ صدر پاکستان نے ای سی او اجلاس میں جو باتیں کی ہیں وہ سو فیصد درست ہیں لیکن ہر بات کے پیچھے کوئی نہ کوئی چیز ہوتی ہے اور اسلامو فوبیا محض اسلامو فوبیا نہیں کہ وہ مطالبے سے ختم ہوجائے گا۔ اس کے لئے بہت بڑی قوت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام اسلامی ممالک دنیا بھر کے غیر اسلامی بلاکوں میں منقسم ہیں۔ ان ممالک کے مفادات اسلام دشمن ریاستوں سے وابستہ ہوتے جارہے ہیں ممالک سے زیادہ حکمران اپنے ہی دشمن ملک کی حکومت کے دوست بن رہے ہیں اب تو امت مسلّمہ کے متفقہ اور مسلمہ دشمن اسرائیل کو دوست بنالیا گیا ہے۔ امریکیوں کی لاتیں اور گالیاں کھاکر ان کے دیئے ہوئے چند ٹکوں کی خاطر اپنے اپنے ملکوں میں مسلم حکمران مسلمانوں پر مظالم ڈھارہے ہیں خود صدر پاکستان اپنے ملک کے مسلمانوں کا حال دیکھ لیں اگر حکمران ہی دینی مدارس ان کے نصاب، علماء کرام اور اسلام پسندوں کے خلاف تعصب کا اظہار کریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلے گا کہ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلے گی اور عارف علوی صاحب سے زیادہ کون جانتا ہوگا کہ جوں ہی کوئی اسلام کا نام لیتا ہے اس کے خلاف محاذ کھڑا ہوجاتا ہے یورپ میں یہ محاذ بے وجہ نہیں ہے۔ ان پر مسلم غلبے کا ایک خوف طاری ہے اور یہی حال جنوبی ایشیا کے ہندوئوں کا بھی ہے اور مسلم غلبے اور حکمرانی سے خوفزدہ ہیں دنیا کا خوف دور کرنے کے لیے پاکستان، افغانستان ترکی ایران اور دیگر اسلامی ممالک بشمول وسط ایشیائی ممالک کو اپنے اپنے ملکوں میں اسلامی فلاحی نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ اسلام کی اصل شکل واضح ہو اور ایک متفقہ موقف اختیار کیا جائے جس کے بعد کوئی اسلام کے خلاف آواز نہ اٹھاسکے۔