عمارتیں مسمار کرنے سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا،محسن شیخانی

205
کراچی: آباد کے چیئرمین محسن شیخانی پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) نے سندھ حکومت کی جانب سے تعمیرات کے لیے ریگولرائزیشن پالیسی سمیت چارٹر آف ڈیمانڈ منظور کرنے کی یقین دہانی پر29 نومبر بروز پیر آباد ہاؤس سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک نکالی جانے والی احتجاجی ریلی ملتوی کردی ہے۔ احتجاجی ریلی کے لیے جمع ہونے والے بلڈرز اور ڈیولپرز سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے آباد کے چارٹر آف ڈیمانڈ منظور کرنے کی یقین دہانی پر آباد کی ریلی یکم دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔ محسن شیخانی نے بتایا کہ ایڈ منسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ آباد کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں سب سے بڑا مطالبہ کہ پنجاب کے طرز پر کراچی میں بھی تعمیرات کے لیے ریگولرائزیشن پالیسی نافذ کرنے کے لیے سندھ حکومت نے آرڈیننس گورنر سندھ کو بھیج دیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کی کراچی میں غیر موجودگی کے باعث ہماری آج ان سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ چارٹر آف ڈیمانڈ میں دیگر مطالبات کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے یکم دسمبر 2021ء کو مذاکرات کے لیے ملاقات طے پا گئی ہے۔ محسن شیخانی نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ آباد وفاقی حکومت یا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے جا رہی ہے جو کہ درست نہیں، آباد کوئی سیاسی پارٹی نہیں بلکہ ٹریڈ باڈی ہے،اگر ہمیں کاروبار کرنے سے روکا جائے گا تو پرامن احتجاج کرنا ہمار آئینی حق ہے۔ محسن شیخانی نے کہا کہ آباد کے مطالبات کسی مراعات یا ٹائٹل کے لیے نہیں بلکہ خالصتا کراچی میں تعمیراتی شعبے کو زوال پزیری سے بچانے کے لیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم کراچی میں تمام قواعد وضوابط پر عمل کرکے تعمیراتی پروجیکٹس کی اپروول حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر درجنوں متعلقہ محکموں سے این اوسیز حاصل کرتے ہیں اور ٹیکسز کی مد میں اروبوں روپے قومی خزانے میں جمع کراتے ہیں۔ اس تمام کے باوجود قانون کے مطابق تعمیر شدہ عمارتوں مسمار کرکے کراچی کے بلڈرز اور ڈیولپرز کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ کراچی کے بلڈرز اور ڈیولپرز مایوسی کا شکار ہیں اور انھوں نے احتجاجا اپنے 300 سے زائد تعمیراتی پروجیکٹس پر کام بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے 900 ارب روپے کی سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے جبکہ تعمیراتی شعبہ اور اس کی ذیلی صنعتوں کے لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ آباد کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں ریگولرائزیشن پالیسی کے ساتھ ساتھ ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک اتھارٹی قائم کی جائے جس سے تعمیراتی پروجیکٹس کی منظوری کے بعد کوئی اس پر اعتراض نہ اٹھا سکے اور اگر کوئی بے ضابطگی ہو تو اسکا ذمے دار اس اتھارٹی کو قرار دیا جائے نہ کہ بلڈرز اور ڈیولپرز کو۔انھوں نے کہا کہ آباد کے ممبرز بلڈرز جب پروجیکٹس کے یونٹس فروخت کرتے ہیں تو خریدار تمام محکموں کی این او سیز اور اپروول کی جانچ پڑتال کے بعد ادائیگیاں کرتے ہیں۔نسلا ٹاور اور دیگر عمارتوں کی مسماری کے بعد مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے جس سے پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان کا خدشہ ہے۔ چیئرمین آباد نے بتایا کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی ہمارے مطالبات کی منظوری میں کردار ادا کرنے کی یقین دہائی کرائی ہے۔ اسی لیے ہم آج کی احتجاجی ریلی ملتوی کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یکم دسمبر کو وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں آباد کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو منظور کیا جائے گا،بصورت دیگر کراچی میں تعمیراتی شعبے کو بچانے کیلیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔