سندھ میں بلدیاتی قانون کیخلاف جماعت اسلامی نے احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا،سندھ اسمبلی کے گھیرائو کا انتباہ

194
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن بلدیاتی ترمیمی بل کیخلاف پریس کانفرنس میں احتجاجی تحریک کے شیڈول کا اعلان کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے متنازع ترمیمی بل سندھ لوکل گورنمنٹ 2021کو ایک بار پھرمسترد کرتے ہوئے اس کراچی دشمن کالے قانون کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک اوردھرنوں و مظاہروں کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بل سندھ کے شہروں بالخصوص کراچی کے تین کروڑ سے زائد عوام کو غلام بنانے کا بل اور بدترین فسطائیت ہے ، پیپلز پارٹی کے کراچی کے تمام اداروںاور وسائل پر قبضہ کرنے کی کوششوں کے خلاف بدھ یکم دسمبر ‘کراچی کے 11مقامات پر دھرنے دیئے جائیں گے ،جمعہ 3دسمبرکو پورے کراچی میں یوم سیاہ منایا جائے گا جس میں احتجاجی مظاہروں ، کارنر میٹنگز ، واک منعقد کی جائیں گی ۔ اس غاصبانہ بل کے خلاف وکلاء ، علماء ، ڈاکٹرز ،انجینئرز اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں سے رابطہ کیا جائے گا اوراتوار 12دسمبر کو عظیم الشان’’ کراچی بچائو مارچ‘‘ کیا جائے گا متنازع ترمیمی بل واپس نہ لیا گیا تو سندھ اسمبلی کا گھیرائو کا آپشن بھی استعمال کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ادارہ نور حق میں متنازع بلدیاتی ترمیمی بل کے خلاف پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امراء ڈاکٹر اسامہ رضی ، راجہ عارف سلطان ، عبد الوہاب ، سیکریٹری کراچی منعم ظفر خان ،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، سلمان شیخ بھی موجود تھے۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی میڈیا سے گفتگو جس میں صوبائی وزیر نے ترمیمی بل میں جماعت اسلامی کی تجاویز کو مد نظر رکھتے ہوئے بل بنا یا گیا ہے ‘کہ بیان کو سختی سے مسترد کردیا اور کہا کہ ہم نے تجویز دی تھی کہ کراچی پاکستان کا بڑا شہر ہے ، آئین کے مطابق یہاں کارپویشن نہیں با اختیار شہری حکومت کا نظام ہونا چاہیئے ۔ اس شہر کو میگا سٹی اسٹیٹس ملنا چاہیئے لیکن پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے پہلے سے موجودبے اختیار ایکٹ کو مزید بگاڑ کر اسمبلی میں لولا ، لنگڑا بل پیش کر دیا ہے جس کے ذریعے شہری محکمے اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتی ہے جب کہ ایسے 25بلدیاتی ادارے جو 2001 کے بلدیاتی سسٹم کے تحت سٹی گورنمنٹ کے ماتحت ہوتے تھے یا ان میں شہری حکومت کا عمل دخل ہوتا تھا ‘ ان کے علاوہ ایم ڈی اے ، ایل ڈی اے ، کے ڈی اے اور کے بی سی اے کو ایس بی سی اے بنا کر سندھ حکومت پہلے ہی اپنے قبضے میں کر چکی ہے ۔ کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ابتداء سے سٹی گورنمنٹ کے ماتحت تھا ، گزشتہ 10 برسوں میں اس کا بیڑہ غرق کردیااور اب اس کو بھی اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے ، عباسی شہید ہسپتال ، سرفراز رفیقی شہیدہسپتال ، سوبھراج ہسپتال ، لیپرو سی ہسپتال اور کے ایم سی کے ماتحت چلنے والی جتنی ڈسپنسریز تھیں انہیں اپنے کنٹرول میں لینے کا پروگرام بنالیا ہے اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ غیر منقولہ جائیداد کا ٹیکس ، پیدائش اور اموات سرٹیفیکٹ بنانے کے اختیارات ، تعلیم ، بنیادی صحت مراکز ، فوڈ سے متعلق قانون سازی کے اختیارات سب اپنے قبضے میں لینے کی تیاری کر لی ہے ، حالانکہ صوبے کی 98فیصد معیشت کراچی سے چلتی ہے ، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے شہری اور دیہی آبادیوں میں یونین کمیٹیاں بنانے کے پیمانے الگ الگ رکھے ہیں تاکہ شہروں بالخصوص کراچی میں یونین کمیٹیوں کی تعداد کم ہو ، اس طرح نفرتوں میں اضافے کے اور سوا کیا ہوگا ؟ پیپلز پارٹی کی اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ منافرت پھیلتی رہے اور ان کی سیاست چلتی رہے ، حقیقت یہ ہے کراچی کی آبادی کو آدھا شمار کیا گیا ہے ، بلدیاتی انتخابات کروانے کے بجائے ٹال مٹول کرتے ہوئے سوا سال کا عرصہ گزار دیا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کالجز میں داخلے کے لیے ڈومیسائل کی شرط کی شدید مذمت کرتے ہیں ، کیونکہ اس پابندی کی وجہ سے نہ صرف طلبہ بلکہ والدین بھی شدید پریشانی سے دوچار ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم شہر میں ہر قسم کی غیر قانونی تعمیرات کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان میں ملوث تمام ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ شاعر، ادیب ، انجینئر ز، ڈاکٹرز ، وکلاء اساتذہ اور علماء سمیت تمام شہری جماعت اسلامی کی تحریک میں شامل ہوں کیوں کہ عوام کی طاقت سے ہی مسائل حل ہوں گے ۔