بلدیات کے کالے قانون کے خلاف جماعت اسلامی کااحتجاجی تحریک کے شیڈول کا اعلان

365

کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے متنازعہ ترمیمی بل سندھ لوکل گورنمنٹ  2021کو ایک بار پھرمسترد کرتے ہوئے اس کراچی دشمن کالے قانون کے خلاف  جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک اوردھرنوں و مظاہروں کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن  نے کہا کہ یہ بل سندھ کے شہروں بالخصوص کراچی کے تین کروڑ سے زائد عوام کو غلام بنانے کا بل اور بدترین فسطائیت ہے، پیپلز پارٹی کے کراچی کے تمام اداروںاور وسائل پر قبضہ کرنے کی کوششوں کے خلاف بدھ یکم دسمبر ‘کراچی کے 11مقامات پر دھرنے دیئے جائیں گے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ جمعہ 3دسمبرکو پورے کراچی میں یوم سیاہ منایا جائے گا جس میں احتجاجی مظاہروں ، کارنر میٹنگز ، واک منعقد کی جائیں گی ۔ اس غاصبانہ بل کے خلاف وکلاء ، علماء ، ڈاکٹرز ،انجینئرز اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں سے رابطہ کیا جائے گا اوراتوار 12دسمبر کو عظیم الشان’’ کراچی بچائو مارچ‘‘ کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ  متنازعہ ترمیمی بل واپس نہ لیا گیا تو سندھ اسمبلی کا گھیرائو کا آپشن بھی استعمال کریں گے ۔ اس شہر کو میگا سٹی اسٹیٹس ملنا چاہیئے لیکن پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے پہلے سے موجودبے اختیار ایکٹ کو مزید بگاڑ کر اسمبلی میں لولا ، لنگڑا بل پیش کر دیا ہے جس کے ذریعے شہری محکمے اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتی ہے جب کہ ایسے 25بلدیاتی ادارے جو 2001 کے بلدیاتی سسٹم کے تحت سٹی گورنمنٹ کے ماتحت ہوتے تھے یا ان میں شہری حکومت کا عمل دخل ہوتا تھا ‘ ان کے علاوہ ایم ڈی اے ، ایل ڈی اے ، کے ڈی اے اور کے بی سی اے کو ایس بی سی اے بنا کر سندھ حکومت پہلے ہی اپنے قبضے میں کر چکی ہے ۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ  کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ابتداء سے سٹی گورنمنٹ کے ماتحت تھا ، گزشتہ 10 برسوں میں اس کا بیڑہ غرق کردیااور  اب اس کو بھی اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے ، عباسی شہید اسپتال ، سرفراز رفیقی شہیدہسپتال ، سوبھراج  اسپتال ، لیبرو سی اسپتال اور کے ایم سی کے ماتحت چلنے والی جتنی ڈسپنسریز تھیں انہیں اپنے کنٹرول میں لینے کا پروگرام بنالیا ہے اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ غیر منقولہ جائیداد کا ٹیکس ، پیدائش اور اموات سرٹیفیکٹ بنانے کے اختیارات ، تعلیم ، بنیادی صحت مراکز ، فوڈ سے متعلق قانون سازی کے اختیارات سب اپنے قبضے میں لینے کی تیاری کر لی ہے ، حالانکہ صوبے کی 98فیصد معیشت کراچی سے چلتی ہے۔