حکمران ریاست مدینہ کی مثالیں چھوڑکر گھر جائیں،ممتاز سہتو

104

ڈہرکی( نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ مولانا ممتاز حسین سہتو اور مولانا تشکیل احمد صدیقی امیر جماعت اسلامی ضلع گھوٹکی نے جماعت اسلامی ڈہرکی کی جانب سے منعقد سیرت مصطفی کانفرنس کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے دعوے دار حکمرانوں اپنی بیڈ گورننس ،ظلم و زیادتی اور جھوٹے وعدوں والی طرزِ حکومت کی سیاہ کاریوں سے نبی مہربان ؐ کی مدینے کی ریاست کی روشن مثالوں کو داغ دار نہ کرو اور اب قوم اور پاکستان اور مدینے کی ریاست کی روشن اور پاک مثالوں کی جان چھوڑو اور گھر جاؤ،قوم اور ملک تمہارا وبال اب مزید برداشت نہیں کر سکتے۔یہ عمران کی کیسی فلاحی ریاست ہے جہاں پر عوام روز کمرتوڑ مہنگائی سے خود اور اپنے معصوم بچوں کو دو وقت روٹی تک پوری کرنے کے لیے ترس رہے ہیں ؟ لوگ اس بھوک در بھوک ، ظلم و ناانصافیوں سے تنگ آکر اور روز گار نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں سمیت اجتماعی خودکشیاں کر رہے ہیں یا پھر بھرے بازاروں میں اپنے بچے فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ بے حث ،بے ہمیت اور ظالم حکمران قوم سے کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا یہ عمران کی کیسی ریاست ہے کہ جہاں پر ہماری قوم کی عزت دار مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سرے عام، چوکوں،چوراہوں اور مادر علمی تعلیمی اداروں میں آئے روز ہر گھڑی ظالم،بااثر اور طاقتور حوث کے پجاریوں کی حوث و بربریت کا نشانہ بن رہی ہیں اور ظالم لوگ پورے گھر والوں کو دن دہاڑے قتل کر دیتے ہیں اور پھر اپنی مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے دندناتے پھرتے ہیں ۔ملک کا قانون اور قانون نافذ کرنے والے ان ظالموں کے لیے موم کی ناک بن جاتے ہیں۔