شہید خالد محمود سومرو کے خون سے انقلاب آ چکا ہے،علامہ ناصر محمود سومرو

131

لاڑکانہ(نمائندہ جسارت) جے یو آئی کے شہید رہنما اور سابق سینیٹر علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے فرزند جمعیت علما اسلا م ضلع لاڑکانہ کے امیر علامہ ناصر محمود سومرو نے اپنے والد علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی ساتویں برسی کے موقع پر لاڑکانہ میونسپل اسٹیڈیم میں شہید اسلام قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قاتلوں سے کہا کہ تم نے مجھ سے میرا والد اور قائد چھینا آج لاڑکانہ میونسپل اسٹیڈیم میں شہید خالد محمود سومرو کا نظریہ، فکر اور آواز زندہ ہے، علامہ ناصر محمود سومرو نے کہا کہ ”تم کتنے خالد مارو گے ہر گھر سے خالد نکلے گا” جب تک ہماری جان میں جان ہے ہم اپنے والد شہید کی جاندار آواز بن کر سندھ کے کونے کونے میں پہنچا کر اپنے شہید والد کے قاتلوں سے انتقام ضرور لیں گے۔انہوں نے اپنے والد شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے متعلق سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد نے جو کہا تھا ان کا ایک ایک لفظ سچ ثابت ہو رہا ہے کیونکہ آج 8 سال سے ہر آئے دن میں اے ٹی سی کورٹ سکھر کے اندر اپنے شہید والد کے خون میں جج صاحبان سے انصاف کی بھیک مانگنے جاتا ہوں لیکن 8 سال گزرنے کے باوجود مجھے عدالت سے انصاف نہیں ملا اگر عدالت مجھے انصاف نہیں دے رہی پھر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ علی احمد کرد آپ ٹھیک تھے، آپ کی آواز درست تھی ہماری عدالتیں بکاؤ بن چکی ہیں، ہماری عدالت سے انصاف کی اْمید باقی رکھی ہوئی ہے تو ہم نے اپنے قائد کے حکم پر باقی رکھی ہوئی ہے، اگر آج ہمارے قائد نے ہم سے ہاتھ نکالا تو خدا کی قسم کورٹ کے باہر نہیں، جیل کے باہر نہیں سندھ کے ہر راستے پر آپ کے ساتھ دما دم مست قلندر ہو گا ہم آپ سے بھیک نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قاتل میں نے یا جمعیت کے کارکنوں نے گرفتار نہیں کیے تھے بلکہ ریاست نے قاتل گرفتار کییتھے ریاست نے مجھے مجرم دیے تھے کیا وجہ ہے کہ انصاف دینے میں صرف عدالت ناکام نہیں ہوئی بلکہ ریاست ناکام ہو چکی ہے ہمیں اپنے والد کے کیس میں انصاف دو، علامہ ناصر محمود سومرو نے ایک قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا کہ ہمیں انصاف چاہیے عدالت اور ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں انصاف دو اگر آپ نے ہمیں انصاف نہ دیا تو سارے ادارے سن لیں میں اپنے قائد مولانا فضل الرحمن کی موجودگی میں متنبہ کرتا ہوں کہ ہم نے ان ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں پہن رکھی ہیں شہید خالد محمود سومرو کے خون سے انقلاب آ چکا ہے۔