عالم اسلام افغان حکومت کو تسلیم کرے

135

پاکستان کا جنگ زدہ پڑوسی اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے مین پس و پیش کیوں؟
نئی حکومت اور انتظامیہ کو قائم ہوئے اور بزور طاقت قابض غیر ملک کو افغانستان سے گئے ہوئے عرصہ ہوگیا مگر ان نڈر، بہادر ، غازی، قوم و ایمان پرست مجاہدوں کی قائم حکومت کو ابھی تک کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ اورون کی بات تو چھوڑین خود پڑوسی برادر اور جنگون سے متاثر ممالک پاکستان، ترکی اور ایران بھی افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے مین پس و پیش اور مصلحتوں کا شکار ہیں۔
اب ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان سب سے پہلے افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں نمبر لے جائے گا۔ وہ اس کی تیاری کر رہا ہے۔ دہلی میں اسی ہفتہ کئی علاقائی ممالک کی کانفرنس کر رہا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو فطری طور پر افغانستان کی نئی حکومت اس کی مرہون منت ہو جائے گی اور پاکستان اپنی تمام تربیش بہا قربانیوں، خلوص اور ہمدردیوں کے باوجود افغانستان کی ہمدردیوں اور قربت سے دور ہو جائے گا۔
ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی معاشرتی، معاشی اور سیاسی پالیسیوں کو ملکی اور عوامی مفاد میں مرتب کرنے مین ابھی تک آزاد نہیں ہیں بلکہ ان ہی کی طرف دیکھتے ہیں جو ہمیں ہمارا بن کر آستین کے سانپ کی طرح بار بار ڈستے چلے آرہے ہیں۔
زمانے سے اگر تو یوں ڈرے گا۔
زمانہ تجھ پہ ہنستا ہی رہے گا۔
پاکستان کو خود یا علاقائی ممالک یا اسلامی ممالک (او آئی سی) سے مشاورت کرکے ہندوستان سے پہلے افغانستان کے غیور عوام کی حکومت کو تسلیم کرنے میں پہل کر نے کا کارنامہ انجام دینا ہوگا۔
اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
علامہ اقبال نے کیا خوب فر مایا
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور