بات غریبوں کی۔۔۔

233

وزیر خزانہ شوکت ترین نے 11جون کو 2021-22 کا وفاق بجٹ پیش کیا اور حسب روایت اپوزیشن کے شور وغوغا کے باوجود یہ بجٹ منظور ہوگیا اس بجٹ کے تمام حصّوں پر اظہار خیال کرنا مقصود نہیں بلکہ اس میں سے صرف اس حصّے پر بات کرنی مقصود ہے جس کا تعلق غریب طبقے کی آمدنی سے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فی صد اضافہ کیا گیا ہے اسی طرح پنشن میں بھی دس فی صد اضافہ کیا گیا ہے۔ اور ملک میں وہ طبقہ جس کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو غیر ہنر مند یا مزدور طبقہ ہے اس کی کم از کم تنخواہ بیس ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ بجٹ پیش کرنے سے پہلے اگر وزیر خزانہ کسی مارکیٹ چلے جاتے اور کہیں سے سبزی، کہیں سے آٹا، چاول، دالیں، تیل، گھی وغیرہ خریدتے کسی میڈیکل اسٹور پر چلے جاتے، پٹرول پمپ پر بھی خود تشریف لے جاتے، کسی غریب کے گھر میں چند گھنٹے گزار لیتے، کسی سرکاری اسکول اور غیر سرکاری اسکول کا دورہ کرلیتے، کسی بچے کی شاندار کامیابی پر بچے کے باپ کے دکھ بھرے تاثرات لے لیتے کہ اب پھر نئی کتابیں، وردی، سالانہ فیسیں اور جانے کیا کیا اخراجات ادا کرنے کی فکر کیسے اس بچے کے باپ کو کھاتی ہے۔ شاید آپ یہ مشورہ دیں کہ آپ اپنے بچے کو کسی سرکاری اسکول میں پڑھا لیتے مگر سرکاری اسکول اور سندھ کے اسکولوں کا حال تو آپ کو بتانا ایسے ہی ہے کہ نانی کے آگے ننھیال کا حال۔ یقینا آپ نے بجٹ پیش کرنے سے پہلے ایسی کوئی مشقت والی مشق نہیں کی بلکہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بجٹ تیار کرکے قومی اسمبلی کے ایوان میں پڑھ ڈالا جس کے اندر مہنگائی کا ایک طوفان ہے جس نے غربت کی چادر کوآپ کے مطابق بننے والی مدینے کی ریاست کو بری طرح ڈھانپ لیا ہے کہ جہاں والدین اپنے بچوں کو بیچ رہے ہیں معاشی پریشانیوں سے تنگ آکر یہ طبقہ خودکشیوں پر آمادہ ہوگیا ہے اور اس طرح کی خبریں ملک کے طول وعرض سے آرہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ
احساس مرتا ہے تو ضمیر بھی مر جاتا ہے
یہ وہ موت ہے جس کی خبر نہیں ہوتی
لیکن اصل مدّعا یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی وفاق کے اعلان سے ایک قدم آگے بڑھ اعلان کردیا کہ سندھ میں کم از کم تنخواہ پچیس ہزار روپے ہوگی ساتھ یہ بھی فرمایا کہ مجھے احساس ہے کہ یہ بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مطابق نہیں ہے۔ اس کا اطلاق جولائی 2021 سے ہوگا اور ساتھ یہ بھی اعلان سامنے آگیا کہ اگر کسی ادارے نے اس سے کم تنخواہ پر کسی کو ملازمت دی یا تنخواہ پچیس ہزار سے کم دی تو ان ادارو ں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ لیکن اس فیصلے کے مہینوں گزر جانے کے بعد کیا ملک کے تمام مزدوروں اور سندھ کے تمام مزدوروں کی تنخواہیں پچیس ہزار ہوگئیں ہیں؟ آج بھی سرمایہ دار دس طرح کے حیلے بہانے کررہے ہیں کوئی عدالت کا رخ کر رہا ہے۔ پاکستان کا مزدور طبقہ تو ویسے ہیں اتنا کمزور ہے کہ اس کے لیے عدالت جانے کی ضرورت نہیں۔ جہاں پرائیوٹ سیکٹر میں حکومت کے اس اعلان کا کوئی خاطر خواہ اثر نہ ہوا وہاں ایسے سرکاری ادارے بھی ہیں جہاں اس طرح کے ملازمین رکھے جاتے ہیں جنہیں کڑی شرائط پر ملازمت دی جاتی ہے کام ان سے ڈٹ کر لیا جاتا ہے اور تنخواہ ان کو اتنی کم دی جاتی ہے کہ وہ بمشکل اپنا اور اپنے زیر کفالت افراد کا پیٹ بھر سکیں۔ اور ان ملازمین کی طرف سے ہر طرح کی قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے ان کو تو اوّل کوئی ثبوت دیا ہی نہیں جاتا اور اگر دیا بھی جاتا ہے تو ان میں ملازمت عارضی دکھائی جاتی ہے ان کی تنخواہ حاضری کی بنیاد پر ہوگی، ان کو کوئی چھٹی کی اجازت نہیں ہوگی، ان کو کسی طرح سے ادارے سے کوئی علاج معالجے کی سہولت حاصل نہ ہوگی انتہا یہ کہ ان کو کسی طرح کی شناخت بھی نہیں دی جاتی۔ برسبیل تذکرہ پاکستان کا مشہور اور معروف کراچی ڈاؤ میڈیکل کالج اور یونیورسٹی ہے جہاں ہر طالب علم کا خواب ہوتا ہے کہ کسی طرح وہاں داخلہ مل جائے اس کی وجہ یہاں کا تعلیمی معیار ہے اور اس کا اوجھا کیمپس ہے جہاں اس طرح کے سو سے زائد ملازم کام کررہے ہیں۔ یہ ملازمین گریجویٹ اور ماسٹر ڈگریوں کے حامل ہیں۔ یہ یہاں برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں نہ ان کی تنخواہوں میں برسوں سے کوئی اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی ان کو کنٹریکٹ پر کیے جانے کا کوئی امکان ہے۔ ان کو اب بھی صرف پندرہ ہزار روپے ماہانہ ایک چیک کے ذریعے تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔ شاید ان لوگوں نے اپنی جوانی کا بیش تر حصّہ اس ایک خواب کے سہارے گزار دیا ہے کہ کبھی ان کی بھی باری آئے گی اور ان کو سرکاری نوکری دی جائے گی یا کم از کم ان کو کنٹریکٹ ملازمین کی صف میں کھڑا کیا جائے گا، ان کو بھی اس ادارے کی شناخت ملے گی، علاج و معالجے کی سہولت سے یہ بھی بہر مند ہوسکیں گے اور ان کی تنخواہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ ساتھ ہر سال بڑھا کرے گی۔ تعجب کی بات ہے کہ ان باتوں سے اب تک وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ کیسے لاعلم ہیں گویا چراغ تلے اندھیرا ہے۔ جبکہ سندھ مینیمم بورڈ آف ویجز بھی موجود ہے جواسی کے لیے خاص ہے کہ حکومت کی طے کردہ اجرتوں کے مطابق تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں یا نہیں اگر نہیں تو اس ادارے کا فرض ہے کہ سندھ کے ایسے تمام ملازمین کی تعداد اور ان کو دی جانے والی تنخواہوں کا مکمل ڈیٹا جمع کرے اور ایسے تمام اداروں سے باز پرس کرے اس سے بھی مسئلہ حل نہ ہوتو عدالت میں یہ ادارہ فریق بن کر حاضر ہو کیونکہ یہ تو سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کا خود کا بیان ہے کہ ان تمام اداروں کے خلاف کارروائی ہوگی جو اپنے ملازمین کو کم از کم پچیس ہزار روپے ماہوار تنخواہ سے کم دیں گے۔