وسائل بڑھائیں قرضے نہیں

221

پاکستانی قوم کو مسلسل دھوکے میں رکھ کر اس کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے اور دھوکے باز نہایت تیز رفتار میڈیا مہمات کے ذریعے دھوکے کی وارداتیں کرتے ہیں۔ حکمران صرف ایک بات کہتے ہیں کہ ہم ٹھیک کررہے ہیں۔ سابقہ حکمران غلط تھے۔ لیکن اپنے دور کا حساب دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ روزانہ حکمران ایک ہی بات دہرا رہے ہیں کہ ملک ترقی کررہا ہے۔ نواز شریف اور زرداری چور تھے لیکن اس بات کا جواب کون دے گا کہ اب ملک میں کیا ہورہا ہے۔ ہر مسئلے کا حل بندش اور پابندی کیوں ہے۔ اب نجی بجلی گھروں کی گیس بند کردی گئی ہے۔ یہ نجی بجلی گھر صنعتوں کو بجلی فراہم کرتے ہیں گویا بجلی بند ہونے سے صنعتوں کو براہ راست نقصان پہنچے گا اور ملک ترقی کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے سعودی عرب سے ہر مہینے دس کروڑ ڈالر کا تیل ادھار لینے کا اعلان کیا ہے اور اس کا اعلان اس انداز میں کیا ہے جیسے کوئی بہت بڑی کامیابی ہے۔ خبر یہ ہے کہ وفاقی کابینہ نے سعودی عرب سے تیل ادھار لینے کی منظوری دے دی۔ اس بات کو بے وقوف بنانے کی کوشش کہا جائے یا کم علمی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ اب وفاقی کابینہ یہ اعلان کرے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے معاہدے کی منظوری دے دی۔ فرض کریں یہ منظوری نہ دی جاتی تو کیا فرق پڑتا۔ یہ مسئلہ تو کبھی حل نہیں ہوگا۔ جب تک ملک کے مسائل سے واقف ایماندار اور مخلص لوگ ایوان اقتدار میں، اسمبلیوں میں اور کار مملکت سے متعلق معاملات میں ایماندار اور نہیں آئیں گے یہی ہوتا رہے گا۔ کتنا ظلم ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر قرضے نواز شریف لیں اور ادائیگی بعد میں عوام کریں، پھر آصف زرداری کی حکومت قرضے لے اور عوام بعد میں ادائیگی کریں اور پھر پی ٹی آئی قرضے لے اور عوام ادائیگی کریں۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ اب اگر حکومت تبدیل ہوگی تو یہی کہا جائے گا کہ پچھلے حکمران چور تھے۔ جب تک یہ ذہنی سانچہ نہیں بدلتا کہ اگر گیس کم ہے، پٹرول کم ہے یا اجناس کی قلت ہو تو بندش کردو۔ راشننگ کردو یا باہر سے منگوالو۔ ملک چلانے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو آئی ایم ایف سے قرض لے لو۔ یہ قرض پھر اگلے دور میں عوام کی جیبوں سے نکلوایا جائے گا۔ سعودی عرب سے جو پٹرول لیا جائے گا اصل قیمت کے بعد وہ 3.8 فی صد مارجن پر ملے گا، مفت میں نہیں۔ اسی طرح سعودی عرب جو تین ارب ڈالر دے گا وہ اس پر چار فیصد منافع لے گا۔ یہ بحث الگ ہے کہ مارجن اور منافع کیا ہے۔ اسے سود کہا جائے یا کچھ اور لیکن یہ رقم تو پاکستانی قوم کی جیب سے جائے گی۔ اسے کارنامہ کیوں سمجھا جارہا ہے۔ سعودی عرب سے جو رقم قرض کے طور پر لی جارہی ہے اس کارنامے کی تفصیل بھی یہی ہے کہ صرف 72 گھنٹے کے تحریری نوٹس پر یہ قرض واپس بھی لیا جاسکتا ہے۔ حکمران ملک میں بنیادی ضروریات کی اشیا کی قلت پر یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں مہنگائی ہورہی ہے لیکن آج کل عالمی سطح پر تیل کی قیمت گزشتہ ڈیڑھ سال کی کم ترین سطح پر ہے تو پاکستانی عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا بلکہ آئی ایم ایف سے سودا کرلیا گیا کہ ہر ماہ چار روپے فی لیٹر اضافہ کیا جائے گا۔ اس قسم کی باتیں کرنے والے حکمران ویسے ہی ہوتے ہیں جو چند روز کے لیے سیر سپاٹے کرنے آنے والوں کی طرح کی ذہنی کیفیت رکھتے ہیں۔ ہر چند روز بعد عوام کے لیے کوئی نیا بحران کوئی نیا تماشا لگتا ہے۔ شور مچا مچا کر عوام کی جیب کاٹی جائے گی۔ اسمبلیوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ہنگامہ اٹھایا اور دوسرے قوانین منظور کرالیے گئے۔ قوم ووٹنگ مشین کے چکر میں پڑی رہی اور ملک میں مہنگائی اتنی تیزی سے اوپر گئی کہ اب لوگ صرف معاشی چکر میں پڑ گئے ہیں۔ وہ تو اب کسی مسئلے پر آواز اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہے۔ آج کل نسلہ ٹاور پر شور مچا ہوا ہے۔ اور بہت سی دوسری مصیبتیں اس کی آڑ میں عوام پر مسلط کردی گئی ہیں۔ بلدیات کا قانون بدل کر رکھ دیا گیا ہے۔ کئی بلدیاتی اداروں کو قبضے میں کرلیا گیا اور کہنے کو یہ بلدیاتی قوانین میں ترمیم ہے۔ جس سے عوام کو فائدہ ہوگا۔ وفاقی مشیر خزانہ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ٹیکسز میں اضافہ نہیں ہوگا بس سبسڈی ختم کریں گے۔ ہم نے تو پٹرول پر سارے ٹیکسز ختم کردیے۔ یہ مشیر خزانہ کیا باتیں کررہے ہیں، سارے ٹیکسز ختم کرکے بھی عوام کو ڈیڑھ سو روپے فی لیٹر پٹرول مل رہا ہے بلکہ وہ بھی ڈیلرز اور حکومت کے ملی بھگت کے ڈرامے کے نتیجے میں غائب ہی ہوگیا۔ مشیر خزانہ نے خوش خبری سنائی کہ ڈالر 9 روپے نیچے آئے گا۔ لیکن وہ یہ نہیں بتا سکے کہ ڈالر 108 سے 170 تک کیسے پہنچا۔ جب تک ڈالر 115 یا 120 پر نہیں آئے گا ملک کے مسائل بڑھتے رہیں گے اور ایسے بے حس حکمرانوں کے ہاتھ میں اچھا خاصا ترقی یافتہ ملک بھی دے دیں تو یہ اسے بھکاری بنا کر چھوڑیں گے۔ ان کی سوچ ہی الٹ ہے۔ مسائل کا حل قرضے لینے سے نہیں وسائل میں اضافہ کرنے سے ہوگا اور یہ وسائل کو تو تباہ کررہے ہیں یا فروخت کررہے ہیں۔ پھر ملک کے پاس بچے گا کیا۔