حکومت سے تصادم نہیں ،مذاکرات سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں،وفاق ہائے مدارس

131

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاق ہائے مدارس نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم حکومت سے تصادم نہیں چاہتے بلکہ تعمیری مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ اس وقت ملک کے داخلی اور خارجی حالات بالخصوص ہمارے گردوپیش کے حالات کسی تصادم اور خلفشار کے متحمل نہیں ہوسکتے‘ ’’اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان‘‘ کو ملک گیر سطح پر منظّم کیا جائے گا‘ دسمبر کے پہلے ہفتے میں صوبائی تنظیمیں مکمل کی جائیں گی اور اس کے بعد ڈویژنل سطح پر تنظیماتِ مدارس کا نیٹ ورک قائم کیا جائے گا‘ دینی مدارس و جامعات کی حریتِ فکر وعمل، خود مختاری اور خود داری کا برقرار رکھنا
ملک میں دینی اَقدار کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے‘ اسے ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا‘ خواہ حالات کتنے ہی ناسازگار ہوں۔ یہ فیصلہ اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا‘ اجلاس تنظیم کے صدر مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی صدارت میں ہوا جس میں مولانا مفتی منیب الرحمن، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا یٰسین ظفر، مولانا عبدالمالک، حافظ سید ریاض حسین نجفی، مولانا عبید اللہ خالد، صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، مولانا محمد سلفی، ڈاکٹر مولانا عطا الرحمٰن، سید مرید حسین نقوی، علامہ صاحبزادہ محمد ریحان امجد نعمانی، مولانا ضیا الرحمن، مولانا عبدالوحید، مولانا محمد افضل حیدری، مولانا شبیر حسن میثمی اور مرکزی رکن کابینہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان مولانا فیاض حسین نقوی نے شرکت کی۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں تحریکِ آزادی ہو یا تحریکِ پاکستان، اسلامی تعلیمات اور اسلامی اَقدار کے فروغ میں دینی مدارس و جامعات کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور اس خطے کے علما کی دینی خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے‘ برصغیر پاک وہند کے دینی مدارس وجامعات کے فضلا دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اور دینی خدمات انجام دے رہے ہیں‘ وہ پاکستان کے رضاکارانہ سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر بالترتیب اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے کنونشن منعقد کیے جائیں گے اور ان میں معاشرے کے تمام طبقات کے نمائندہ افراد کو بطورِ مبصر شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ سب کو حقائق سے آگاہی حاصل ہو۔