آئی ایم ایف شرائط کے باعث مشکل ترین ایام شروع ہونے کو ہیں

212

کراچی ( تجزیاتی رپورٹ محمد انور ) اطلاعات کے مطابق حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے طے کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد شروع کردیاہے۔یہ خبر عوام کے لیے نئی بری خبر کے مترادف ہے‘ قوم کو یقین کر لینا چاہیے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب جمہوری دور کے آخری دو سال میں اصل مہنگائی کا طوفان نہیں بلکہ سونامی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوجائے گا۔ ملک میں شاید ہی کوئی ایسی چیزہو جس کی قیمت میں اضافہ نہ ہو۔ کے کوئی بھی ایسا شعبہ موجود نہ رہے جو آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے متاثر ہو۔ خیال رہے کہ آئی ایم ایف سے طے شدہ فیصلے کے تحت ترمیمی فنانس بل کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔اس فنانس بل میں شیڈول 6 ختم کردیا جائے گا،جس کے خاتمے سے 350 ارب روپے کی ٹیکس مراعات ختم ہو جائیں گی۔ جس کا اثر مجموعی طور پر قوت خرید پر پڑے گا کیونکہ بیشتر اشیا مہنگی ہوجائیں گی۔ذرائع کے مطابق چونکہ پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ وصولی کا ہدف 600 سے کم کر کے 356 ارب روپے مقرر کیا جائے گا۔اس لیے خدشہ ہے ملکی ذرائع آمدن پر بھی منفی اثرات پڑیں ۔ عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر ترمیمی فنانس بل میں رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5800 ارب سے بڑھا کر 6100 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم چونکہ ٹیکس کی وصولیابی پہلے بھی ہدف کے مطابق نہیں ہوا کرتی ہے اس لیے ایسی صورت میں حکومت کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا جس کا اثر بھی براہ راست عوام پر پڑے گا۔ سب سے اہم بات یہ کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر اگر ترقیاتی پروگرام میں 200 ارب روپے کمی کی گئی تو بڑے ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہونگے اور بعض اہم پروجیکٹ معطل بھی کیے جاسکتے ہیں۔ آنے والے مشکل ترین ایام کے لیے حکومت کو حکومتی غیر ترقیاتی اخراجات سمیت تمام خرچوں میں غیر معمولی کمی کرنا ہوگی۔