نسلہ ٹاور،چیئرمین آباد کاریلی مؤخر کرکے عدالت جانے کا اعلان

140

کراچی: آباد کے چیئرمین محسن شیخانی نے کہا ہے کہ ہم نے ریلی مؤخر کر دی ہے، اور غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دینے والوں کے خلاف عدالت جا رہے ہیں۔نیوز کانفرنس کرتے ہوئے محسن شیخانی کا کہنا تھا کہ کل جب سے ہم نے ریلی کا اعلان کیا ہے، ایک ماحول بنا ہوا ہے اور تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہم اداروں یا حکومتوں کے خلاف ہیں، ہم غیر قانونی کنسٹرکشن کے خلاف ہیں۔

انھوں نے کہا آباد کی جانب سے نکالی جانے والی ریلی ابھی موخر کی ہے، غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دینے والوں کے خلاف عدالت جا رہے ہیں، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، پالیس میٹر جو ہے اسی پر قائم رہا جائے، نسلہ کی پٹیشن میں بتایا جائے کہ کن اداروں نے اس کی اجازت دی؟

محسن شیخانی کا کہنا تھا کہ نسلہ اٹاور گرانے کا حکم سپریم کورٹ کا ہے، ہم اس کے خلاف نہیں جا سکتے، لیکن اپیل کر سکتے ہیں، کل سعید غنی بھی ہمارے پاس آئے، صبح کمشنر صاحب آئے انھوں نے کہا ریلی کی اجازت نہیں دیں گے، کوئی حادثہ ہوا تو آباد ذمہ دار ہوگا، ہمیں تو حکومت ہی پرمٹ دیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد اون کرنا حکومتی ذمہ داری ہے، ہم کوئی سیاسی جماعت نہیں، ہمیں کاروبار کرنے دیا جائے۔

چیئرمین آباد نے تعمیرات کے سلسلے میں اپروول دینے کے لیے سنگل اتھارٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اپروول ملنے کے بعد جو بھی کچھ ہو، اس کی ذمہ داری ادارے کی ہو، بلڈر کی نہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز پر مبنی ایک ماسٹر پلان بنایا جائے تاکہ سب اس کو فالو کریں، انکوائری کمیشن بیٹھنا چاہیے جو ان ساری چیزوں پر لائحہ عمل بنائے، ہم نے چارٹر اف ڈیمانڈ گورنر کو جمع کرا دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کیسز کی بنیاد پر 17 بلڈر ممبرز ایسے ہیں جنھیں آباد سے نکال دیا گیا ہے، ان لوگوں کا اب آباد سے تعلق نہیں، چائنا کٹنگ اور نالوں پر تجاوزات قائم کرنے والے آباد سے نہیں، کراچی میں ساڑھے 4 لاکھ ایکڑ زمین خالی پڑی ہے، کسی جگہ تو شہر کو انفرا اسٹرکچر دیں۔ہم نے 3 دن کا وقت دیا ہے۔