جنوبی افریقا سفری پابندیوں پر نالاں شدید احتجاج

217
جوہانسبرگ: سفری پابندیوں کے باعث ہوائی اڈے پر کاؤنٹر بند پڑے ہیں

جوہانسبرگ (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوبی افریقا نے مختلف ممالک کی جانب سے سفری پابندیوں کے اعلانات پر شدید احتجاج کرتے ہوئے پابندیوں کوغیرانسانی، غیر سائنسی اور عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے برعکس قرار دے دیا۔ جنوبی افریقا کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ بعض ممالک کے رد عمل غیر منصفانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ دنیا بھر کودرپیش ہے، مگر انہیں قربانی کے بکرے کی تلاش ہے۔ واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جنوبی افریقی کورونا کی نئی قسم ’اومی کرون‘ کو تشویش ناک قرار دینے کے بعد برطانیہ سمیت امریکا ، کینیڈا، فرانس ، جرمنی ،اٹلی ،ہالینڈ ،آسٹریا اور یورپی یونین نے افریقی ممالک پرسفری پابندیاں لگائیں۔ برطانیہ نے جنوبی افریقا ، لیسوتھو ، بوٹسوانا، نمیبیا، اسواتینی اور زمبابوے کو کورونا پابندیوں والی ریڈ لسٹ میں شامل کیا اور ان ممالک سے پروازوں کی آمد پر پابندی لگائی۔ اس کے علاوہ امریکا نے بھی جنوبی افریقا سمیت 8 افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم جنوبی افریقا کے ایک صوبے میں دریافت ہوئی ہے جس کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں اوریجنل کورونا وائرس کے مقابلے میں اس قدر تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں کہ کورونا کی اب تک بنائی جانے والی ویکسینوں کی مؤثریت 40 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے ویرینٹ کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہ حیران رہ گئے کیوں کہ انہوں نے اس سے قبل کورونا کی اتنی خطرناک قسم نہیں دیکھی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جنوبی افریقا سے سامنے آنے والے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ ’’اومی کرون‘‘ کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس کورونا کے دیگر اقسام کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران جنوبی افریقا میں مذکورہ ویرینٹ کے کیس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔