عمرکوٹ ، گرلز ہائی اور پرائمری اسکول کی مرمت 2 سال بعد بھی نا مکمل

132

عمرکوٹ (نمائندہ جسارت ) شہر کے گرلز ہائی ￿ اور پرائمری اسکول کی تعمیر میں ناقص میٹریل استعمال ہونے سے 2 سال گزرنے کے باوجود تعمیر و مرمت کا کام مکمل نہ ہو سکا۔ اسکول زبوں حالی کا شکار ہو گیا، لاکھوں روپے کی لاگت سے بنایا گیا ہال بغیر دروازوں ،کھڑکیوں پلستر اور بغیر فرش کے نا مکمل ہے، اسکول میں بچیوں کے لیے سہولتوں کا بھی فقدان ہے۔ پانی کی نکاسی کے لیے بنایا گیا گٹر نالا بند ہونے سے اسکول میں بدبو آنے لگی ہے۔ ناقص انجینئرنگ پلاننگ سے بنایا گیا گٹر نالا 3 سالوں سے بند جبکہ طلبہ کے لیے بنائے گئے واش روم بھی استعمال کے قابل نہ رہے۔ اسکول کی دیواریں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں ۔تاریخی اسکول پانی کے نکاسی کا سسٹم نہ ہونے سے حالیہ بارشوں میں بھی تالاب کا منظر پیش کر رہا تھا ۔کوئی توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ،جبکہ مین تعلقہ گرلز پرائمری اسکول نزد واگا فقیر کی نئی بننے والی بلڈنگ کی تعمیر و مرمت کے کام میں کرپشن کا انکشاف ہو اہے۔ ایک سی این اور ایس ڈی او کے تبادلے ہو گئے ٹھیکیداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔ تعلقہ مین بوائز پرائمری اسکول کی دیوار کو 2 سال گزرنے کے باوجود نہیں بنایا گیا۔نیچے خاصخیلی برادری کے 2 گھر دیوار گرنے سے زمین بوس ہو گئے تھے۔ 2 سال گزرنے کے باوجود نہ دیواریں بنائی گئیں نہ اس ٹوٹنے والا گھر غریبوں کو بنا کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں نامور سماجی شخصیت رسول بخش رحیم دانی حاجی عبد الغفار ناگوری اور دیگر نے وزیر اعلیٰ سندھ ،صوبائی وزیر ایجوکیشن ورکس اینڈ سروسز صوبائی وزیر تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ روشن مستقبل کے طلبہ کے لیے تعمیر کیے جانے والے اسکولوں کی تعمیر میں ناقص میٹریل استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرکے عوام سے انصاف کیا جائے۔