عدالتی فیصلوں پر بولنے کاحق ملنا چاہیے،سعید غنی

73
حیدرآباد: وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی صحافیوں میں ہیلتھ کارڈ تقسیم کررہے ہیں

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان صحافت کے لیے خطرناک ترین ملک بن گیا ہے جو کہ افسوس ناک ہے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صحافیوں کی آواز کو دبادیں گے اور سچ چھپ جائے گا تو یہ ان کی بھول ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کلب حیدرآباد میں ایچ یو جے کی جانب سے منعقدہ تقسیم لیبارٹری رعایتی کارڈ کی تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد لیبر کارڈ متعارف کروائیں گے یہ لیبر کارڈ سرکاری و نجی ملازمین سب کےلیے ہوگا اور کم ازکم اجرت بڑھانے کیلےے وفاقی حکومت اور دیگر فریقین سے گزارش کروں گا کہ وہ ملازمین کو کم از کم 25 ہزار روپے ماہانہ اجرت ادا کریں۔ انہوںنے کہا کہ جتنی سازشیں عدالتوں کے خلاف اب ہورہی ہےں اتنی تو فوجی آمر کے دور میں بھی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں عدالتوں کا حترام
کرتا ہوں،میں یہ نہیں بول رہا کہ زمینوں پر قبضہ ہونا چاہیے،ماضی میں ہزاروں عمارتیں بن گئی ہیں کیااس کا یہ حل ہے کہ آپ ساری عمارتوں کو گرادو اورکیا یہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کے ججز کی سربراہی میں کمیشن بنادیں وہ کمیشن فیصلہ کرے جس کے بعد پھر چاہے ان پر جرمانہ لگادیںیا بمباری کر دیں۔نسلہ ٹاور آپ چاہے توڑ دیں مگر قصور بلڈر کا ہے بلڈنگ کنٹرول کا ہے وہاں رہنے والوں کا کیا قصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں وزارت کے بنا رہ سکتا ہوں مگر میرے لوگوں کے سر پر چھت نہ ہو میں کیسے برداشت کروں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ان پر عملدرآمد کروانا ہماری ذمے داری ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں فیصلوں پر اتنا بولنے کا حق ضرور ہونا چاہےے کہ فیصلہ صحیح ہے یا غلط ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے مزید کہا کہ مزدوروں کو سہولت دینے سے مالکان کی آمدنی میں کمی نہیں آئے گی بلکہ ان کے رزق میں برکت ہوگی اور مزدور پہلے سے بہتر اور اچھا کام کرے گا۔انہوں نے کہا کہ جس حساب سے مہنگائی بڑھ رہی ہے لگتا ہے اگلے سال مزدور کی کم تنخواہ پھر بڑھانی پڑے گی، 25 ہزار سے کم تنخواہ پر سندھ حکومت کو انڈسٹریز کا پریشر ہے مگر اس مہنگائی کے دور میں یہ سب کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں نام نہاد جمہوری حکومت ہے، جتنا ظلم میڈیا پر اس دور میں ہورہا ہے پہلے کبھی آمریت میں بھی نہیں ہوا ہے، دو روز قبل ایک صحافی کی اہلیہ پر حملہ کیا گیا جو شرمناک بات ہے۔