وفاقی کابینہ نے سعودی عرب سے ادھار تیل خریداری کے معاہدے کے منظوری دے دی

190

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے سعودی عرب سے ادھارپرتیل خریداری کامعاہدہ کرنے کی منظوری دے دی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کو اکنامک ڈویژن کی جانب سے سرکولیشن سمری بھجوائی گئی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی۔معاہدے کے متن کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو ماہانہ 100ملین ڈالر کا ادھار تیل دیگا اور پاکستان کو تیل کی ادائیگی کے ساتھ 3.8 فیصد مارجن بھی دینا ہوگا۔ذرائع کے مطابق معاہدہ ابتدائی طورپر ایک سال کے لیے ہے جسے بعد میں توسیع بھی دی جاسکتی ہے جب کہ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر نے پاک سعودی معاہدے کے ڈرافٹ پر اتفاق کیا ہے۔سمری میں کہا گیا کہ ایک سالہ معاہدے سے سالانہ 4 فیصد منافع ہوگا۔معاشی امور کی وزارت کی جانب سے ایک اور سمری پیش کی گئی جو ایک سال کے لیے 10 کروڑ ڈالر مالیت کے تیل کی سہولت سے متعلق تھی۔مذکورہ سمری میں کہا گیا تھا کہ باہمی رضامندی سے ایک سال کی توسیع دی جاسکتی ہے جس میں 3.80 فیصد مارجن کے ساتھ سعودی
ڈیولپمنٹ فنڈ(ایس ایف ڈی) سے خریداری قیمت سمیت دیگر شرائط کی نشان دہی کی گئی ہے۔وزیرمعاشی امور عمر ایوب خان کو سمری وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔بعد ازاں کابینہ نے دونوں سمریوں کی منظوری دے دی ۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران کی جانب سے اکتوبر میں دورہ سعودی عرب کے موقع پر مالی پیکیج کی فراہمی اور تیلی کی سہولت دینے کے معاہدے پر اتفاق کیا گیا تھا۔رواں ہفتے وزیراطلاعات فواد چودھری نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر ٹرانسفر کے حوالے سے تمام قانونی معاملات طے پاگئے ہیں اور یہ ڈالر رواں ہفتے پاکستان کو مل جائیں گے۔مشیر خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ سعودی عرب نے تیل خریدنے کے لیے پاکستان کو 3.6 ارب ڈالر فراہم کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب حکومت پاکستان کو یہ رقم ماہانہ بنیادوں پر فراہم کرے گا، دو سال کے دوران سعودی حکومت پاکستان کو ماہانہ 15کروڑ ڈالر فراہم کرے گی اور یہ رقم پاکستان صرف تیل کی خریداری کے لیے استعمال کر سکے گا۔اس سے قبل انہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران بتایا تھا کہ سعودی عرب سے تیل کی فراہمی کا معاہدہ تکمیل کے قریب ہے اور دوست ملک موخر ادائیگیوں پر تیل فراہم کرے گا۔