اسلامی اقدار اور علم سے دوری مسلمانوں کے زوال کے اسباب ہیں

341

کراچی(رپورٹ:حماد حسین)مسلمانوں کے زوال کا سب سے بڑا سبب، اسلام سے دوری ہے۔ ہم لوگ اپنی مذہبی اقدار بھول چکے ہیں۔ آگے بڑھنے کے لیے سود جیسی لعنت سے بھی نہیں بچتے اور آرام سے سود کو استعمال کرتے ہیں‘آج کا مسلمان اسلامی نظریہ حیات کو مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے قبول ہی نہیں کر پا رہا ہے۔اس کے بجائے جو ضابطہ حیات مسلمانوں نے اختیار کیا وہ اجتماعی نظام معاشرت یا معیشت ہے۔اعلیٰ سطح کی تعلیم وتحقیق اور اجتماعی شعور کا فقدان ہے۔ اسلام کی ابتداء ہی اقرا(علم)سے ہوتی ہے۔ جب تک مسلمانوں نے علمیت کی بنیاد کو پکڑ کر رکھا پوری دنیا کے وسیع حصے پر اپنی حکمرانی برقرار رکھی لیکن جب تحقیق کے بجائے تقلید کی جانب قدم رکھا تو یہ مسلمانوں کے زوال کی ابتدا تھی۔ مسلمانوں کو ایک اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا کہ ماضی کی طرح تعلیم وتحقیق کو ترقی کی بنیاد بناکر اپنے حال کو خوشحال اور مستقبل کو تابناک بناسکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے شعبہ تعلیم کی انچارج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ محمود، وفاقی اردو یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کی اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر رضوانہ جبیں اورجامعہ کراچی کے شعبہ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر محمد علی نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ محمودکا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے زوال کا سب سے بڑا سبب، اسلام سے دوری ہے۔ ہم لوگ اپنی مذہبی اقدار اور رسومات بھول چکے ہیں۔ ہم میں بھائی چارہ اور یکجہتی نہیں رہی‘ ہم لوگ اپنے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ آگے بڑھنے کے لیے سود جیسی لعنت سے بھی نہیں بچتے اور اطمینان سے سود کو استعمال کرتے ہیں‘ بد عنوان لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے‘ہر طرف بدعنوانی کا دور دورہ ہے۔ جس کی وجہ سے قابل افراد پیچھے رہ جاتے ہیں اور نالائق اور نکمے آگے بڑھ جاتے ہیںاور ملک وقوم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں میں غداروں کی بھی کمی نہیں ہے۔ یہ لوگ دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو اندر سے کھوکھلا کررہے ہیں۔ قانون کی پاسداری نہیں رہی‘ ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی ہے‘ اگر ہم اس زوال سے بچنا چاہتے ہیں اور دوبارہ اپنا کھویا ہوا وقار واپس لینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دینا ہوگی ان کی تربیت اسلام کے اصولوں کے تحت کرنی ہوگی۔ مسلمانوں کی مدد اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی پروڈکٹس کو بھی استعمال کرنے پر ترجیح دینی چاہیے۔ پروفیسرڈاکٹر رضوانہ جبیںکا کہنا تھا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اپنے نصب العین اور مقصد حیات کو پس پشت ڈال دینے والے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں‘ باشعور قومیں اپنے نظام حیات، عقائد ونظریات اور اصول وضوابط کا آئینہ دار ہوتی ہیں۔ آج مسلمانوں میں اسلامی نظام حیات محض زبانی موجود ہے۔ ضابطہ حیات مسلمانوں نے اختیار کیا وہ اجتماعی نظام معاشرت یا معیشت ہے۔اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ارب ہے۔ دنیا کی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ 60 کے قریب باقاعدہ آزاد اسلامی ریاستیں ہیں جن میں مشرق وسطیٰ کے ممالک اقتصادی لحاظ سے مضبوط اور قدرتی وسائل کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ممالک جہاں مسلمانوں کی حکومت نہیں ہے وہاں بھی مسلمان خاصی تعداد میں آباد ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان اتنی بڑی تعداد اور قدرتی وسائل ہونے کے باوجود پسماندگی اور پستی کی طرف کیوں ہیں، تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ جب مسلمان بڑی تعداد میں موجود نہ تھے، ٹیکنالوجی کی سہولت نہیں تھی اور ان کے پاس قدرتی وسائل نہیں تھے پھر بھی انہوں نے ترقی کے اعلی مدارج طے کر لیے تھے۔ بو علی سینا، البیرونی، الخوارزمی جیسے مسلمان سائنسدانوں نے عالمی سطح پر اپنا مقام بنایا تھا۔ گھڑیوں کی ایجاد سے لیکر طب، ریاضی، فلکیات، سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم پر اپنی بالادستی قائم کر رکھی تھی۔ مسلمانوں کی تہذیب دنیا بھر میں مشہور تھی۔ مسلمانوں کے عدل و انصاف کے سب قائل تھے۔ تاہم فی زمانہ مسلمانوں کے زوال کے اسباب کا پہلو یہ بھی ہے کہ مسلمانوں میں تحقیقی اور فکری سرگرمیاں نہ ہو نے کے برابر ہیں۔ اپنی غلطیوں سے چشم پوشی کی عادت اپنا لی ہیں۔ اور آج کا مسلمان اپنی سوچ اور فکر کو ترقی دینے سے گریزاں ہیں۔پروفیسرڈاکٹر محمد علی کا کہنا تھا کہ عروج وزوال اقوام کی تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں۔ نشیب وفراز اقوام پر آتے رہتے ہیں۔ ہر عروج کو زوال اور زوال کو عروج ملتا ہے۔ مسلمانوں نے بھی کئی صدیوں تک اقوام عالم پر اپنی شان وشوکت کو برقرار رکھا تاہم گزشتہ صدیوں سے لیکر عصر حاضر تک امت مسلمہ مسلسل زوال پذیر ہے۔ جس کی بنیادی وجہ اعلیٰ سطح کی تعلیم وتحقیق اور اجتماعی شعور کا فقدان ہے۔ اسلام کی ابتداء ہی اقرا(علم)سے ہوتی ہے۔ جب تک مسلمانوں نے علمیت کی بنیاد کو پکڑ کر رکھا پوری دنیا کے وسیع حصے پر اپنی حکمرانی برقرار رکھی لیکن جب تحقیق کے بجائے تقلید کی جانب قدم رکھا تو یہ مسلمانوں کے زوال کی ابتدا تھی موجودہ دور میں کوئی بھی اسلامی ملک( ماسوائے چند ملائیشیا،ترکی، سائنس وٹیکنالوجی میں دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ دیگر اقوام کا معاشی دفاعی اور سماجی میدانوں میں مقابلہ نہیں کرپاتی ان کی معیشت اور دفاع بڑی طاقتوں کی محتاج ہے۔ علاوہ ازیں امت مسلمہ کے درمیان اجتماعی شعور اور پرخلوص قیادت کا فقدان بھی نظر آتا ہے عالم اسلام نسلی برتری اور فرقہ واریت کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم ہوتی جارہی ہے جوکہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے برعکس ہے۔ دنیا کی ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود عالمی سطح پر مغرب کی جانب سے بڑھتے ہوئے اسلامی فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی موثر حکمت عملی نہیں بناسکی۔ مغرب کی جانب سے نئی ٹیکنالوجی کی یلغار کی وجہ سے اسلامی ممالک کے نوجوانوں میں تبدریج مذہب بیذاری اور مغرب پسندی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے جس کے اثرات آہستہ آہستہ نظر آرہے ہیں۔ جس کو روکنا انتہائی لازمی ہے۔ مسلمانوں کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے جب تک اسلام کے بنیادی فلسفہ پر عمل نہیں کرینگے مسلمانوں کو بتدریج زوال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مسلمانوں کو ایک اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا کہ ماضی کی طرح تعلیم وتحقیق کو ترقی کی بنیاد بناکر اپنے حال کو خوشحال اور مستقبل کو تابناک بناسکتے ہیں۔