نسلہ ٹاور میں جنہوں نے گھر لیے ان کا کیا قصور ہے، سعید غنی

153

صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ توہین عدالت کا سوچ نہیں سکتے لیکن اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے،

نسلہ ٹاور میں جنہوں نے گھر لیے ان کا کیا قصور ہے، لاکھوں لوگوں کی چھتیں چھین کر انسانی المیہ پیدا ہوگا، نجی ٹی وی کے مطابق ہفتہ کو حیدرآباد پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ پچھلے 50سالوں میں ہزاروں بلڈنگ بنیں، غلط بنیں، پنجاب حکومت نے غیر قانونی تعمیرات پر کمیشن بنایا، یہاں پر بھی کمیشن بنادیں کہ ان تعمیرات کا کیا کرنا ہے، جن لوگوں نے قبضہ کیا، سرپرستی کی ان کو بھی پوچھیں،

انہوں نے کہا کہ انڈسٹریز میں مزدور کے لیے 25ہزار کم از کم ماہانہ تنخواہ کا کہا ہے، وفاق اور دیگر صوبوں سے بھی کہتے ہیں وہ بھی اتنی ہی تنخواہ کرے، ملک میں مہنگائی کی صورتحال سے لگتا ہے پھر تنخواہیں بڑھانی پڑیں گی،سعید غنی نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اتنی ہی گندم ہوتی ہے جتنی سندھ کو ضرورت ہوتی ہے، کہا جاتا ہے گندم کی کمی کی وجہ سندھ حکومت ہے،ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا رہا سندھ میں 3شوگر ملیں تھیں جنہیں بند کردیا گیا، کونسی 3شوگر ملیں ہیں جس سے پورے پاکستان میں چینی مہنگی ہوئی، سندھ میں شوگر ملیں جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور چودھریوں کی ہیں ۔