بلدیاتی ترمیم بل کی منظوری غیر جمہوری و آمرانہ رویہ اور عوامی مفاد کے خلاف ہے ٗحافظ نعیم الرحمن

206

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کا بل پاس کروانے کا عمل اور طریقہ کارشرمناک،غیر جمہوری و آمرانہ طرز عمل اورعوامی مفاد کے خلاف ہے،گورنر سندھ اس بل کی منظوری نہ دیں،ترمیمی بل کے ذریعے سے کراچی کے عوام کی تذلیل کی گئی ہے،موجودہ ترمیمی بل پاس کرواکے پیپلزپارٹی نے بلدیاتی اداروں کومزید اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور یہ کراچی پرقبضہ کی سازش ہے، آئین کے آرٹیکل 32اورآرٹیکل 140.Aکے مطابق انتظامی،مالیاتی اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنا چاہیئے لیکن پیپلزپارٹی تمام اختیارات بالائی طبقے کو منتقل کر کے آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے،اٹھارہویں ترمیم میں پیپلزپارٹی نے کراچی میں وفاق کے تحت چلنے والے اداروں کوتو اپنے قبضے میں کرلیا لیکن جو ادارے لوکل گورنمنٹ کو منتقل ہونے تھے وہ واپس نہیں کیے،ہم پیپلزپارٹی کے آئین سے متصادم طریقہ کار کے حوالے سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے،اس کے خلاف ہم کراچی کے عوام کو متحد کرکے اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کے ساتھ مل کر ایک زبردست مزاحمتی تحریک چلائیں گے،مشاورت کے بعد جلدآئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ اسمبلی میں نئے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کی منظوری اورجماعت اسلامی کے موقف کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیرجماعت اسلامی ضلع جنوبی و رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر نائب امراء جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، راجا عارف سلطان، سکریٹری کراچی منعم ظفر خان،پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ سندھ حکومت میں پیپلزپارٹی کی اکثریت درست مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے ہے اوراسی وجہ سے وڈیرے اور جاگیردار مقامی لوگوں کا استحصال کر کے نمائندگی حاصل کرتے ہیں،یہی وڈیرہ ازم دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہر وں پر بھی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومت اور ان کی اپوزیشن جماعتیں سب کی آمرانہ ذہنیت ہے اور تمام حکومتی جماعتیں مل کر عوام کے ارمانوں کاخون کررہی ہیں۔ ہم پیپلزپارٹی کو مجبورکریں گے کہ وہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کروائے اور سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021کو ہر صورت میں واپس لے۔سید عبد الرشید نے کہاکہ سندھ حکومت جمہوریت کے راگ الآپ رہی ہے،لوکل حکومت کے بل پر گفتگو وترامیم پر بحث حکومت کی ذمہ داری تھی اور پیپلزپارٹی کا بھی فرض تھالیکن ایسا نہیں کیا گیا،پپیلزپارٹی نے بلدیاتی الیکشن سے قبل ہی دھاندلی کا آغاز کردیا۔#