ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی

333

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے آئندہ ماہ منی بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’17 فی صد یکساں سیلز ٹیکس نافذ کریں گے، صنعتوں پر دبائو آئے گا، معاشی ترقی پر اثر پڑے گا، بجلی 1.68 روپے بڑھا چکے ہیں تھوڑی اور مہنگی کرنی ہے، ریلویز اسٹیل ملز سمیت کئی انٹرپرائزز کی نجکاری کریں گے۔ شوکت ترین نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط مشکل تھیں۔ آئی ایم ایف کو اس وقت دبائو ڈالنے کا موقع ملا‘‘۔ انٹرویو میں کچھ خوش خبریاں بھی شامل تھیں، وہ بھی ملا حظہ کر لیجیے۔ فرماتے ہیں: آئی ایم ایف نے 700ارب ٹیکس لگانے کی بات کی تھی میں نے 300ارب پر منوایا۔ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت 4روپے فی یونٹ بڑھادی جائے مگر ہم نے 1.68روپے بڑھائی۔ خبر پر بات کرنے سے پہلے میاں محمد بخش کا ایک پنجابی شعر ملاحظہ فرمائیے:
لکھ کنجراں دی سیوا کرئیے او کدے نئیں رجدے
تھور ککر دی کوڈی کرئیے ام کدے نئیں لگدے
(ترجمہ: کمینے اور رذیل لوگوں کی لاکھ خدمت کر لیجیے وہ کبھی آسودہ اور مطمئن نہیں ہوں گے۔ تھور زدہ زمین کو لاکھ کھودو، نیچے اوپر کرلو اس پر آم نہیں لگ سکتے۔)
سب کو پتا ہے کہ آئی ایم ایف کمینے اور رذیل سود خور ہیں، یہ خالص مالیاتی ادارہ بھی نہیں ہے، قرضوں کی آڑ میں یہ امریکا کے سیاسی عزائم کی جانب پیش رفت کا ذریعہ ہے۔ یہ ہماری حکومتوں کے اللّے تللّے، شاہ خرچیاں، اقربا پروری، گھر پھونک تماشا دیکھ کی عادتیں، غلطیاں اور خسارے ہیں کہ ہم روتے پھر رہے ہیں اور اب آئی ایم ایف کا انگوٹھا ہماری گردن پر ہے۔ اس پر بات کرنے سے پہلے اقربا پروری اورکرپشن کی صرف ایک مثال ملاحظہ فرما لیجیے۔ 2019 میں حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے چند صنعت کاروں کوگیس انفرا اسٹرکچر سیس کی مد میں 208ارب روپے کے ٹیکس معاف کردیے۔ ادائیگیوں میں تاخیر کا جرمانہ بھی شامل کریں تو یہ رقم 300ارب روپے بنتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ رقم ان کمپنیوں کو اپنی جیب سے ادا نہیں کرنی تھی۔ یہ رقم گیس محصول کی مد میں یہ بڑے بڑے صنعتکار اپنی پروڈکٹ بیچتے ہوئے عوام سے پہلے ہی وصول کرچکے تھے لیکن قومی خزانے میں جمع کرنے کے بجائے انہوں نے اپنی جیبوں میں ڈال لی تھیں۔ صنعتکاروں کا تعلق کیمیائی کھاد، ٹیکسٹائل، توانائی اور سی این جی کے شعبے سے تھا۔ دل کے رونے اور جگر پیٹنے کے لیے یہ حقیقت بھی سامنے رکھیے کہ 1971 سے لے کر 2009 تک ملک کی تاریخ میں معاف کیے گئے تمام قرضوں کی کل مالیت 256 ارب روپے ہے جب کہ تحریک انصاف کے ایک سال میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کے ایک آرڈی ننس کے ذریعے 300ارب روپے معاف کردیے گئے۔ اسی سال تحریک انصاف کے 2019-20 کے بجٹ میں عوام سے ٹیکس وصول کرنے کا کل ہدف 734 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے عوام سے جو ٹیکس جمع کیا اس کا 41فی صد چند صنعتکاروں کی جیب میں ڈال دیا۔ جن کمپنیوں کو ٹیکس معاف کیا گیا اس میں سے ایک فاطمہ فرٹیلائزر تھی جس کو 83ارب روپے معاف کیے گئے اور یہ کمپنی تھی محترم جہانگیر ترین کی۔ جب کرپشن کا یہ حال ہو تو آئی ایم ایف کا انگوٹھا تو گردن پر آنا ہی تھا۔
اب آئیے سانس کی نالی پر رکھے انگوٹھے کی طرف۔ محترم مشیر خزانہ نے ٹی وی انٹرویو میں جن مطالبات کا ذکر کیا ہے ان کی تکمیل کے لیے وعدوں وعید پر بھروسا کرنے سے آئی ایم ایف نے انکار کردیا ہے۔ آرڈی ننس جاری کرنے سے بھی کام نہیں بنے گا۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ یہ ہے کہ یہ آپ دسمبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منی بجٹ کی صورت یہ مطالبات منظور کرائیں گے جس میں 350ارب کے اضافی ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل بھی اس میں شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ کورونا کے دوران آئی ایم ایف نے جو رقم پاکستان کو دی تھی جس کے کھاتوں کا کچھ پتا نہیں۔ وہ کھاتے بھی پیش کرنے پڑیں گے۔ اس کے بعد جنوری میں آئی ایم ایف کے ایگزکٹو بورڈ کا اجلاس ہوگا وہ اگر مطمئن ہوگئے تو پھر ایک بلین ڈالر کا قرضہ حکومت پاکستان کو دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ یہ قرض حاصل کرنے کے لیے ہم نے چند ماہ پہلے بجلی کے فی یونٹ میں 1.70روپے اضافہ کیا تھا، پٹرولیم لیوی کے نام پر 4روپے اضافی ٹیکس لگایا، اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1.5فی صد اضافہ کیا۔ ان پسپائیوں کے بعد ہم اس قابل ہوسکے کہ آئی ایم ایف بات چیت کے لیے ہمیں گھاس ڈال سکے۔ بات چیت کے نتیجے میں آئی ایم ایف کی اگلی شرائط وہ ہیں مشیر خزانہ نے انٹرویو میں جن کا ذکر کیا اس کے بعد کہیں جنوری میں وہ نو من تیل میسر آئے گا جس کے بعد معیشت کی رادھا ناچے گی۔
یہ قرض کی رقم کے آنے کے بعد کیا وطن عزیز کی مانگ میں کچھ ستارے جھلملا سکیں گے جواب ہے نہیں۔ اس قرض کی صورت میں جو ڈالر ملیں گے اس کے بعد ڈالر کی کمی کے حوالے سے توکچھ آنسو پونچھ جائیںگے لیکن ڈالروں کے حصول کے لیے ہم نے آئی ایم ایف کے جو مطالبات مانے ہیں اس کے بعد عملی طور پر پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف کے کنٹرول میں چلی جائے گی، معیشت پھلنا پھولنا بھول جائے گی اور پاکستان مستقل طور پر مغرب کا غلام بن جائے گا جو کہ شاید بن چکا ہے۔ ڈالر کی کمی کو پورا کرنے کے لیے عمران حکومت نے پچھلے مہینے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے آگے ماتھا ٹیکا تھا۔ لیکن وعدے کے باوجود وہ تین ارب ڈالربھی کہیں راستے ہی میںموڑ مڑگئے۔ یہ ڈالر آبھی جاتے تو کیا ہوتا۔ پچھلے سال ترکی کا لیرا یکایک ہاتھوں سے نکل گیا تھا جسے طیب اردوان نے اپنے دوستوں یہود وہنود کی سازش قرار دیا تھا اور امریکا کو بھی ایپل کے آئوٹ لٹس بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ان دھمکیوں کا کچھ نتیجہ نہ نکلا تو پھر قطر نے ترکی کی مدد کی اور اپنے 32ارب ڈالر یورپی بینکوں سے نکلوا کر ترکی کے مرکزی بینک میں جمع کروادیے تھے۔ لیکن اس کے نتیجے میں بھی ترکی کی معیشت نہ سنبھل سکی۔ وہ افراط زر آیا کہ آج مہنگائی کے اعتبار سے ترکی شاید دنیا میں پہلے دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہے۔ اس صورتحال میں کیا امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کے عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری سے ریلیف مل سکے۔ ریلیف تو درکنار مہنگائی کا وہ طوفان اٹھے گا کہ سب کو دادی یاد آجائے گی۔ صرف پٹرول کی مد میں ہر مہینے 80ارب روپے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جائے گا۔ خیبر پختون خوا اور پنجاب کے گیس کے گھریلو صارفین کو اطلاع دی جا چکی ہے کہ 157.5فی صد گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
مہنگائی سرمایہ دارانہ نظام معیشت کا لازمی جزو ہے۔ معیشت کو سنبھالنے اور سودی قرضوں کی ادائیگی کے لیے جیسے جیسے حکومت مزید کرنسی چھاپتی ہے کسی بھی اندرونی قدر اور سہارے سے محروم یہ خیالی، فرضی اور کاغذی کرنسی اپنی قیمت کھوتی چلی جاتی ہے۔ جولائی 2018 سے لے کر جون 2021 تک صرف تین سال کی قلیل مدت میں عمران حکومت نے 8300ارب روپے کے نوٹ چھاپے جب کہ اس دوران ملکی پیداوار مجموعی طور پر ساکن رہی جس کا لازمی نتیجہ وہی نکلنا تھا جو نکلا یعنی مہنگائی کا طوفان۔ ان تمام مسائل کا اس نظام میں کوئی حل نہیں۔ اس کا حل اسلام پیش کرتا ہے جس کی کرنسی کی بنیادی قدر سونا اور چاندی ہے جسے کاغذی کرنسی کی طرح اپنی مرضی سے بنایا نہیں جاسکتا۔ اسلام اندرونی قدر سے خالی Fiat کرنسی ختم کرکے سونے اور چاندی پر مبنی کرنسی جاری کرنے پر زور دیتا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی قابو میں رہتی ہے اور قیمتوں میں استحکام رہتا ہے۔ اسلامی کرنسی حکومتی اخراجات اور محاصل دونوں کو قابو میں رکھتی ہے۔ ایک اسلامی حکومت ایسی کاغذی کرنسی جاری نہیں کرسکتی جس کے پیچھے سونا اور چاندی نہ ہو بلکہ صرف ریاست کی قانونی اتھارٹی ہو۔ یہ کاغذی کرنسی اور سودی معاشی آڈر ہی موجودہ دنیا کی بدترین بدحالی کا سبب ہے۔ اس کا خاتمہ اور اس کا متبادل نظام صرف اور صرف اسلام کے پاس ہے۔ لوگو اسلام کی طرف آئو۔ یہی نجات کا راستہ ہے۔ یہی فلاح کا راستہ ہے۔