قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

226

 

نادان لوگ ضرور کہیں گے : اِنہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اس سے یکایک پھر گئے؟ اے نبی، ان سے کہو: “مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ’’امت وسط‘‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو پہلے جس طرف تم رخ کرتے تھے، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت، مگر اْن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا، جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے اللہ تمہارے اس ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے۔(سورۃ البقرۃ:142تا143)

سیدنا کعبہ بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے کعب میں تمہیں ایسے امراء سے جو میرے بعد آئیں گے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں جو لوگ ان ظالم امراء کے دروازے پر جائیں گے اور ان کی جھوٹی باتوں کو سچ ثابت کریں گے اور ان کی ظالمانہ کارروائیوں میں مددگار ثابت ہوں گے تو ایسے لوگوں سے نہ میرا تعلق ہے اور نہ ایسے لوگ مجھ سے تعلق رکھنے ہیں اور حوض کوثر پر وہ مجھ سے ملاقات نہیں کرسکیں گے اور جو لوگ ان ظالم امراء کے دروازے پر نہ جائیں یا جائیں تو ان کے جھوٹ کو سچ نہ بنائیں اور ظالمانہ کارروائیوں میں اس کے مددگار نہ ثابت ہوں تو ایسے لوگ میرے آدمی ہیں اور یقینا حوض پر وہ مجھ سے ملیں گے۔ (جامع ترمزی)