نادرا نے ڈیٹا ہیکنگ سے متعلق ایف آئی اے کے اعلی افسر کےالزامات مستردکردیے

239

ایف آئی اے کے سینیئر عہدیدار کی جانب سے نادرا کے ڈیٹا کی سیکیورٹی میں مداخلت سے متعلق بیان کو ادارے نے مسترد کردیا ہے۔

نادرا کے ایک سینیئر عہدیدار نے واضح کیا کہ نادرا کا ڈیٹا آن لائن دستیاب یا ہیک نہیں ہوا نہ اس میں کبھی مداخلت ہوئی .انہوں نے مزید  کہا کہ اتھارٹی اپنے ڈیٹا بیس یا شہریوں کے شناختی ڈیٹا تک غیر متعلقہ افراد یا ادارے کو رسائی فراہم نہیں کرتی بلکہ نادرا نے  اپنے پاس محفوظ ڈیٹا کی سیکیورٹی اور تحفظ کے لیے کئی تہوں پر مشتمل کنٹرول کا نظام اور بہترین طریقے سے تیار کی گئی پالیسیاں نافذ کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نادرا انتظامیہ نے ایف آئی اے عہدیدار کے بیان کا سختی سے نوٹس لیا ہے، ساتھ ہی بیان کو انہوں نے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور متعلقہ حکام سے درخواست کی کہ متعلقہ افسر سے وضاحت طلب کی جائے۔

نادرا افسر نے کہا کہ یہ بے بنیاد الزامات غیر ارادی نتائج کا باعث بنتے ہیں جس میں غیر ملکی حکومتوں اور کلائنٹس کو خدمات فراہم کرنے والے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ نادرا ایک قومی اتھارٹی ہونے کی حیثیت سے اپنی پالیسیوں، ڈیزائن اور پریکٹسز کے ذریعے یہ بات یقینی بناتا ہے کہ شہریوں کی شناخت کی رازداری اولین ترجیح رہے۔

نادرا عہدیدار کے مطابق اتھارٹی کا آئی ٹی انفرا اسٹرکچر باقاعدگی سے اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی آڈٹ سے گزرتا ہے اور کمزوریوں اور مداخلت کی جانچ کی جاتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ نادرا، سائبر سیکیورٹی کے لیے کئی تہوں پر مشتمل ڈیفنس ان ڈیپتھ (ڈی آئی ڈی) اپروچ کا استعمال کرتا ہے جس میں شہریوں کے ڈیٹا اور معلومات کی حفاظت کے لیے دفاعی طریقہ کار کا ایک سلسلہ ہے، اگر ایک میکینزم ناکام ہوتا ہے تو دوسرا فوراً تخریبی حملے کو ناکام کر دیتا ہے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ڈاکٹر طارق پرویز نے دعویٰ کیا تھا کہ نادرا کا بائیومیٹرک ڈیٹا ہیک ہو چکا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ نادرا کا تمام ڈیٹا ہیک نہیں ہوا البتہ سم کی بائیومیٹرک تصدیق کے دوران نادرا کے بائیومیٹرک سسٹم میں مداخلت ہوئی۔